پٹنہ،17/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)تقریبا ایک سال پہلے شراب بندی نافذ کرنے والی ریاست بہار کے افسر ان اب ریاست یا ملک سے باہر جاکر بھی شراب نہیں پی سکیں گے۔وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت والی کابینہ نے ریاست شراب بندی قانون میں اسی ہفتے ایک ترمیم کو منظوری دی ہے،جس کے تحت ملک یا دنیا کے کسی بھی حصے میں شراب پیتے ہوئے پائے جانے پر ریاست کے نوکر شاہوں، ججوں اورمجسٹریٹوں کو سزا دی جائے گی۔سزا کے طور پر ان افسران کی تنخواہ میں کمی کی جا سکتی ہے، انہیں معطل کیا جا سکتا ہے، اور انہیں برخاست بھی کیا جا سکتا ہے۔اس نئے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے حکام کے لیے ملازمت قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔غورطلب ہے کہ اب تک حکام پر صرف ڈیوٹی کے دوران شراب پینے پر پابندی تھی۔اعلی حکام کے مطابق، عدالتی حکام کے لیے اس سے پہلے اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں تھا،شراب بندی کا یہ قانون ڈیپو ٹیشن پر ریاست سے باہر تعینات کئے گئے افسران پر بھی نافذ ہوگا۔حال ہی میں وزیر اعلی سے ایک جلسہ عام کے دوران سوال کیا گیا تھا کہ کیا نوکرشاہوں کا اس شخص کی طرف سے الکوحل ٹیسٹ کرایا جا سکتا ہے جس کا الزام ہے کہ حکام نے شراب بندی کے باوجود شراب پینا نہیں چھوڑاہے۔یہ فی الحال واضح نہیں ہے کہ حکومت کے پاس ریاست سے باہر تعینات یا موجود حکام پر نظر رکھنے کے لیے کس طرح کی منصوبہ بندی ہے؟ایک رپورٹ کے مطابق، ایسا ہو سکتا ہے کہ کارروائی تبھی کی جائے، جب کوئی شکایت موصول ہو۔قابل ذکرہے کہ اپنا انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے نتیش کمار نے گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں شراب پرمکمل طورپرپابندی عائد کر دی تھی، اور اسے انقلابی قدم بتایا تھا، جس کی وجہ سے ایک جھٹکے میں جرائم کم ہوگئے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی بڑھی اور لوگوں کے کھانے پینے کی عادات میں بہتری آئی۔گزشتہ ماہ نتیش کمار اور حکومت میں ان کی شریک راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو نے شراب بندی کی حمایت میں ریاست کے ہزاروں لوگوں کے ساتھ مل کر انسانی زنجیر بنائی تھی،جس کے بارے میں دنیا کی سب سے لمبی انسانی زنجیر ہونے کا دعوی کیا گیا تھا۔وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے شراب بندی کی تعریف کئے جانے کے بعد ریاست میں اپوزیشن بی جے پی نے بھی اس زنجیر میں حکومت کاساتھ دیاتھا۔حکام کا دعویٰ ہے کہ11000کلومیٹر لمبی انسانی زنجیر کی تصاویر تین سیٹلائٹوں کے علاوہ طیاروں، ہیلی کاپٹروں اورڈرونوں کی مدد سے کھینچی گئی تھیں۔