کولکاتا/نئی دہلی، 15 جون (ایس او نیوز) : مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (TMC) کو ایک بڑے سیاسی جھٹکے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں سابق انڈین کرکٹر اور رکنِ پارلیمان یوسف پٹھان سمیت پارٹی کے 20 باغی ارکانِ پارلیمان نے نیشنل سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (NCPI) میں ضم ہونے اور حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو ممتا بنرجی کی قیادت کے لیے گزشتہ کئی برسوں میں سب سے بڑا داخلی بحران قرار دے رہے ہیں۔
باغی گروپ کی قیادت ترنمول کی سینئر رکنِ پارلیمان کاکولی گھوش دستیدار کر رہی ہیں۔ باغی ارکان نے نئی دہلی میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کرکے انہیں ایک مکتوب پیش کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ انہیں پارلیمنٹ میں ایک علیحدہ بلاک کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ باغی ارکان کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ 20 ارکانِ پارلیمان ہیں، جو ترنمول کانگریس کے لوک سبھا ارکان کی دو تہائی تعداد سے زیادہ بنتے ہیں۔
اس بغاوت میں شامل نمایاں ناموں میں یوسف پٹھان، سایونی گھوش، مالا رائے، شتروگھن سنہا، پراسن بنرجی اور دیگر کئی سینئر ارکان شامل ہیں۔ انڈیا ٹوڈے اور دیگر قومی میڈیا اداروں نے باغی ارکان کی فہرست جاری کرتے ہوئے اسے ترنمول کانگریس کی پارلیمانی تاریخ کا سب سے بڑا انشقاق قرار دیا ہے۔
باغی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی میں داخلی جمہوریت ختم ہو چکی ہے اور تمام اختیارات چند افراد تک محدود ہو گئے ہیں۔ باغی رکن اروپ چکربرتی نے کھلے لفظوں میں کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایک شخص یا ایک خاندان کے گرد نہیں گھومنی چاہیے۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کے لیے گنجائش نہ ہونے کے سبب یہ قدم اٹھانا پڑا۔
سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ باغی ارکان نے براہِ راست بی جے پی میں شامل ہونے کے بجائے نسبتاً غیر معروف NCPI کا انتخاب کیوں کیا۔ معاشی و سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ایک قانونی حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے باغی ارکان انسدادِ انحراف قانون (Anti-Defection Law) کے تحت فوری نااہلی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چونکہ دو تہائی ارکان کے ساتھ کسی دوسری جماعت میں انضمام کی صورت میں قانونی تحفظ حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے، اس لیے NCPI کو ایک عبوری پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
NCPI، جو تریپورہ میں قائم ایک نسبتاً چھوٹی سیاسی جماعت ہے اور مغربی بنگال کے ہاوڑہ ضلع میں رجسٹرڈ ہے، اچانک قومی سیاست کے مرکز میں آ گئی ہے۔ اگر 20 ارکان کا یہ انضمام باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے تو NCPI این ڈی اے کی دوسری بڑی اتحادی جماعتوں میں شمار ہو سکتی ہے اور لوک سبھا میں اس کی حیثیت غیر معمولی طور پر مضبوط ہو جائے گی۔
دوسری جانب ترنمول کانگریس نے اس پورے عمل کو غیر آئینی اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صرف پارلیمانی پارٹی کے ارکان کے الگ ہو جانے سے اصل سیاسی جماعت کا انضمام ثابت نہیں ہوتا۔ ترنمول کے بعض رہنماؤں اور قانونی ماہرین نے استدلال کیا ہے کہ 91ویں آئینی ترمیم کے بعد محض پارلیمانی گروپ کی تقسیم کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے، اس لیے باغی ارکان کو نااہلی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
بی جے پی نے اگرچہ اس پیش رفت کو ترنمول کانگریس کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کا نتیجہ قرار دیا ہے، تاہم پارٹی نے واضح کیا ہے کہ باغی ارکان کے لیے بی جے پی کے دروازے براہِ راست نہیں کھلے ہیں۔ بی جے پی رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی "ہوٹل نہیں ہے" جہاں کوئی بھی شخص اپنی سہولت کے مطابق آ کر شامل ہو جائے، جس کے بعد باغی ارکان کی جانب سے NCPI کا راستہ اختیار کرنا مزید معنی خیز سمجھا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ انضمام برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات صرف مغربی بنگال تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ قومی سیاست اور پارلیمانی صف بندیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے، الیکشن کمیشن کے ممکنہ مؤقف اور عدالتی کارروائیوں پر اب پورے ملک کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ یہی عوامل اس سیاسی بحران کے مستقبل کا تعین کریں گے۔