نئی دہلی، 25/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی ) گرفتاری کے بعد سرخیوں میں رہے پون کھیڑا نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو بیان دیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ پون کھیڑا نے وزیر خارجہ کے اس بیان کی تنقید کی جس میں انھوں نے کہا ہے کہ چین بہت بڑی معیشت ہے، ہم اس کو کیسے جواب دے سکتے ہیں۔
پون کھیڑا نے مرکزی حکومت کے تعلق سے کہا کہ اسے لال آنکھیں چین کو دکھانی چاہئے تھیں، لیکن اپنے لوگوں کو دکھائی جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی جنگ کے وقت امریکہ ہندوستان کو آنکھیں دکھا رہا تھا اور اگر اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی یہ سوچ لیتیں کہ امریکہ بہت بڑی معیشت ہے، تو بنگلہ دیش آزاد نہیں ہوا ہوتا، اور پاکستان سے لڑائی کے لیے ہندوستان آگے نہیں بڑھتا۔
پون کھیڑا نے اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب کو بہت برے ماحول میں کام کرنا پڑ رہاہے، لیکن کانگریس ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں ہے۔ پون نے کہا کہ رائے پور کا یہ اجلاس تاریخی ہے کیونکہ اس پارٹی کے صدر کا انتخاب تاریخی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کوئی ڈرا نہیں سکتا اور کیونکہ ہم نڈر (بے خوف) ہیں اس لئے ہم لڑ رہے ہیں، ہم نڈر تھے اسی لئے ہم نے انگریزوں کو ہرایا تھا۔
کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ وزیر اعظم کو بے روزگاری، مہنگائی اور اڈانی پر جواب دینا چاہئے، نہ کہ ان بیانوں کو ریکارڈ سے ہٹوانا چاہئے جو پارلیمنٹ میں اڈانی اور وزیر اعظم کے تعلق سے پوچھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کو آج کل نیند نہیں آ رہی ہے لیکن ان کے نیند نہ آنے کی وجہ ملک میں بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری ہونی چاہئے نہ کہ اڈانی۔‘‘
انہوں نے خواتین کی سیاست میں حصہ داری پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی بھی فیصلے کو لینے سے پہلے اس کے لئے زمین تیار کرنا ضروری ہے اور کانگریس اپنے فیصلے کسی کے اوپر تھوپتی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور ملک ایک ساتھ بڑے ہوئے ہیں اس لئے ہماری ذمہ داری زیادہ ہو جاتی ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل نکالا جائے۔
ایک دیگر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے اپنے ماڈل ہیں، چاہے راجستھان میں کووڈ کے خلاف لڑائی میں وہاں کا ماڈل ہو جس کی خود وزیر اعظم نے تعریف کی، اور چاہے چھتیس گڑھ کا ماڈل ہو جس کی مرکزی حکومت نے تعریف کی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ گجرات ماڈل کا کانگریس کے ماڈل سے موازنہ کرنے کے خلاف ہیں کیونکہ وہ ماڈل (گجرات ماڈل) ناکام ہے۔
انہوں ذرائع ابلاغ سے کہا کہ اس لڑائی میں ان کا کردار بہت اہم ہے اور ان کو آج کے حزب اختلاف کو دکھانا چاہئے اور کل کو جب بی جے پی حزب اختلاف میں ہوگی تو ان کو دکھانا چاہئے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوتوا کوئی نیا مدا نہیں ہے اور پہلے بھی بی جے پی اور سنگھ اسے مدا بناتے رہے ہیں۔