بھٹکل،26 / ستمبر (ایس او نیوز) مرکزی حکومت میں کابینی امور کے وزیر اور دھارواڑ لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمان پرہلاد جوشی کے بارے میں خبریں گرم ہیں کہ وہ آئندہ پارلیمانی انتخاب میں امیدواری کے لئے اتر کنڑا حلقہ پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں ۔
شمالی کینرا ضلع سے دور کا بھی تعلق نہ رکھنے والے پرہلاد جوشی کی طرف سے اندر ہی اندر چل رہی سرگرمی کے پس منظر میں ضلع شمالی کینرا میں بی جے پی سے ٹکٹ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے لیڈروں کی امیدوں پر پانی پھرتا نظر آ رہا ہے اور اس کی وجہ سے ضلع کے بی جے پی حلقہ میں بے چینی کے آثار محسوس کیے جارہے ہیں ۔
محض2 فیصد سے 3 فیصد کی تعداد میں موجود برہمن طبقہ سے تعلق رکھنے والے پرہلاد جوشی نے جگدیش شٹر ، ایڈی یورپا جیسے لنگایت لیڈروں کی حمایت سے مکمل طور پر لنگایت ووٹروں کے دم پر دھارواڑ حلقہ سے تین مرتبہ پارلیمانی انتخاب جیتا اور بی جے پی کی مرکزی ہائی کمان میں بڑا اثر و رسوخ رکھنے والے اہم لیڈر کے طور پر اپنی شناخت بنائی ہے ۔
مگر اس وقت جگدیش شٹر بی جے پی سے کانگریس میں منتقل ہوچکے ہیں جس سے پرہلاد کو ایک طرف جھٹکا لگا ہے تو دوسری طرف ایڈی یورپا، شنکر پاٹل جیسے کئی با اثر لنگایت لیڈر اب پرہلاد جوشی سے ناراض ہیں ۔ ایسی صورت میں پرہلاد جوشی کے حامیوں کے لئے دھارواڑ حلقے سے الیکشن جیتنا ناممکن نظر آ رہا ہے ۔ اس لئے اس مرتبہ الیکشن جیتنے کی آخری کوشش کے طور پر پرہلاد جوشی نے اب شمالی کینرا کا رخ کرنے کا من بنایا ہے ۔
پرہلاد کی اس خواہش اور مانگ کو ہائی کمان پورا کرتا ہے یا نہیں یہ سوال بھی اہم ہے ، لیکن ایک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے وقتاً فوقتاً تنازعات کھڑے کرنے والے اور کٹر ہندوتواوادی لیڈر کی حیثیت سے سنگھی ذہنیت کے نوجوانوں کے دلوں پر راج کرنے والے اننت کمار ہیگڈے کے مقابلے میں اپنی کوئی خاص امیج نہ رکھنے والے پرہلاد جوشی کو کیا یہاں کا ہندوتواوادی گروپ اور سنگھ پریوار کے کارکنان خوشی سے قبول کریں گے ؟ کیا پرہلاد کی جیت کو یقینی بنانے کے لئے کارکنان اور مقامی لیڈران جی جان سے کام کریں گے ؟ ظاہری طور پر یہ بات اتنی آسان نظر نہیں آتی ۔