ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: سمشان میں دفنائی گئی نعش کی نماز جنازہ کے بعد قبرستان میں دوبارہ ہوئی تدفین

بھٹکل: سمشان میں دفنائی گئی نعش کی نماز جنازہ کے بعد قبرستان میں دوبارہ ہوئی تدفین

Wed, 27 Jul 2022 20:31:36    S.O. News Service

بھٹکل 27 جولائی (ایس او نیوز) منگل شام قریب چھ بجے کارگیدے، ہندو کالونی کے سمشان میں دفنائی گئی نعش کو آج بدھ شام چھ بجے  باہر نکالا گیا اور  نعش کو  نہلانے اور نماز جنازہ  کے بعد  نوائط کالونی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

یاد رہے کہ منگل شام قریب ساڑھے چار بجے  کارگیدے  سے آگے  ہورلی سال جنگل  میں  ایک نامعلوم شخص کا   ڈھانچہ برآمد ہوا تھا  ، شناخت نہ ہونے کی وجہ سے  کارگیدے ہندو کالونی کے سمشان میں اس کو دفنایا گیا تھا، مگر منگل رات کو جیسے ہی ساحل آن لائن پر  خبر شائع ہوئی اور ڈھانچے کے ساتھ برآمد ہونے والے کپڑوں کی تصویر شائع ہوئی تو کپڑوں کو دیکھتے ہی اُس کے گھر والوں نے شناخت کی کہ یہ کپڑے محمد محسن شیخ کے ہیں  جو 25 دنوں سے لاپتہ تھا۔

کپڑوں کی مدد سے شناخت ہونے پر  گھروالوں نے  مضافاتی پولس تھانہ سے رجوع کیا اور نعش کو اپنے حوالے کرنے کی درخواست کی،  پولس کی کاغذی کاروائیوں کے بعد اسسٹنٹ  کمشنر نے نعش کو گھروالوں کے حوالے کرنے  تحصیلدار کوتحریری ہدایت دی، جس کے بعد شام قریب چھ بجے مضافاتی پولس اور تحصیلدار کی موجودگی میں سمشان سے ڈھانچہ کو باہر نکالا گیا اور گھروالوں کے حوالے کیا گیا۔

اس موقع پر سابق کونسلر بلال قمری، علاقہ کے سماجی ورکرس ظہیر قاسمجی، عنایت اللہ سوداگر، ارشاد صدیقہ  سمیت کافی دیگر  نوجوانوں نے نعش کو باہر نکالنے سے لے کر نوائط کالونی قبرستان میں تدفین کرنے  تک مکمل تعاون پیش کیا۔ نوائط کالونی قبرستان میں ہی میت کو نہلانے کے بعد  مغرب اذان سے کچھ منٹ پہلے مولانا عرفان ندوی نے  قبرستان میں ہی  نماز جنازہ پڑھائی  اور بعد میں وہیں تدفین عمل میں آئی۔ قبر کو کھولنے کے موقع پر تحصیلدار ڈاکٹر سومنت، سرکاری ڈاکٹر جناردھن موگیر، روینیو انسپکٹر وشوناتھ اور پی ایس آئی بھرت سمیت کافی دیگر سرکاری اہلکار بھی موجود تھے۔

بتاتے چلیں کہ مرحوم محسن کے ساتھ قریب سات سال قبل ہاویری میں ایک سڑک حادثہ پیش آیا تھا جس کے بعد سے وہ دماغی مرض میں مبتلا تھا۔ قریب 25 روز قبل وہ جامعہ آباد روڈ ، ہونی گیدے میں واقع اپنے گھر سے صبح قریب چار بجے نکلا تھا پھر لاپتہ ہوگیا تھا۔ منگل کو اس کا ڈھانچہ ہورلی سال جنگل سے برآمد ہوا۔ اس کی موت کیسے ہوئی یہ چھان بین کے بعد ہی معلوم ہوگی۔


Share: