بھٹکل 28 / نومبر (ایس او نیوز) بھٹکل ٹاون میونسپل کونسل کے حدود میں گزشتہ پندرہ سال قبل ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے کرناٹکا اربن ڈیولپمنٹ اینڈ کوسٹل اینوائرنمنٹ منیجمنٹ پروجیکٹ (KUDCEMP) کے ذریعے یو جی ڈی کا جو پروجیکٹ پورا کیا گیا تھا وہ فیل ہو جانے کی وجہ سے شہر کے غوثیہ اسٹریٹ، مشما محلہ اور قاضی محلہ جیسے علاقے میں جو ماحولیاتی آلودگی ہوئی ہے اور جس طرح کنووں کے اندر انڈر گراونڈ ڈرینیج کا پانی گھس آیا ہے اس سے پریشان ہو کر اب یہاں کے رہنے والے اپنے گھر چھوڑنے اور دوسرے علاقوں میں جا کر بسنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔
دوسری طرف ضلع انتظامیہ ، تعلقہ انتظامیہ ، محکمہ بلدیہ، منتخب عوامی نمائندے سب کے سب گزشتہ کئی برسوں سے اس مسئلے کو حل کرنے میں پوری طرح ناکا ہوگئے ہیں ۔ انتظامیہ کی طرف سے محض وعدوں کے لالی پاپ کے سوا عوام کے لئے راحت کا کوئی سامان نہیں ہے ۔
جب سال 2008 میں کروڑوں روپے کی لاگت سے یو جی ڈی پروجیکٹ کے تحت شہر میں کام مکمل ہوا تھا تو تھوڑے عرصے تک اس کے اچھے نتائج دیکھنے کو ملے ۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے اس کے منفی نتائج اس طرح سامنے آئے کہ گٹر پائپ لائن سے گزرنے یا مین ہول یا چیمبروں میں جمع رہنے والا گندہ پانی ایک طرف برسات کے دنوں میں سڑکوں پر ابلنے لگا تو دوسری طرف شہر کے نشیبی علاقوں میں موجود پانی کے کنووں میں گھسنے لگا اور لوگوں کے لئے پینے اور استعمال کے لائق صاف ستھرے پانی کے مسائل کھڑے ہوگئے ۔
اسی کے ساتھ غوثیہ اسٹریٹ کے اختتامی ناکے پر جو ویٹ ویل بنایا گیا ہے وہاں سے پانی پمپ کرکے وینکٹاپور کے پاس واقع ٹریٹمنٹ پلانٹ تک پہنچانے کا جو نظام تھا وہ بھی فیل ہوگیا ۔ اکثر و بیشتر پمپنگ کے لئے استعمال ہونے والے موٹر خراب رہنے لگے تو بلدیہ والوں نے ویٹ ویل کا گندہ پانی قریب ہی میں بہتی ہوئی قدیم ترین شرابی ندی میں چھوڑنا شروع کیا ۔
گندہ پانی ندی میں چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ندی پوری طرح آلودہ ہو کر ایک گندے نالے میں تبدیل ہوگئی ۔ وہاں آس پاس کے علاقوں میں پھیلنے والی بدبو سے سانس لینا دوبھر ہوگیا ۔ ندی کے کنارے اور قریب میں واقع کنووں کا پانی گندے پانی کی آمیزش کی وجہ سے پینے یا کسی دوسرے طریقے سے استعمال کرنے کے لائق نہیں رہا ۔ ندی کنارے بسنے والوں کے لئے ماحولیاتی آلودگی ناک میں دم کر دیا تو اس علاقے کے بہت سے لوگوں نے اپنے آبائی اور پشتینی مکانات چھوڑ کر دوسرے علاقے میں منتقل ہونے کو ترجیج دینا شروع کیا ۔
اسی کے ساتھ اس مسئلے کی وجہ سے گزشتہ دس سال اس مسئلے کی وجہ سےغوثیہ اسٹریٹ اور اطراف کے عوام کا جینا حرام ہوگیا ہے ۔ عوام نے ویٹ ویل اور ڈرینیج کے لیکیج کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ضلع انتظامیہ، بلدیہ، اراکین اسمبلی اور وزراء سے بارہا ملاقاتیں کیں، احتجاج کیا، میمورنڈم دئے ۔ لیکن ان کے حصے میں وعدوں کے سوا کچھ نہیں آیا ۔
حال ہی میں ڈینگی بخار پھیلنے کے پس منظر میں جب اس مسئلہ پر گرما گرم بحث چھڑی تو مقامی ایم ایل اے اور ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ منعقد کرنے کے بعد اس مسئلے کے تعلق سے افسران کو تاکید کی تھی کہ جلد از جلد اسے حل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھٹکل کے یو جی ڈی کے مسائل حل ہونے کے بعد ہی نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے ۔ مگر افسوس کہ جو حالت گزشتہ دس سال سے چل رہی ہے وہ ابھی بھی جوں کی توں پڑی ہے اور سرکاری افسران اور منتخب عوامی نمائندوں کی باتیں صرف جی بہلانے کے کھلونوں کے سوا کچھ نہیں ہیں ۔