نئی دہلی14جولائی:4/جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس صدر راہل گاندھی نے انتخابی ریاست مدھیہ پردیش میں بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کو مہر لگا دی ہے۔ اسی سال کے آخر میں مدھیہ پردیش میں اسمبلی کا انتخاب ہونا ہے ؛لہٰذا یہ کانگریس کے بڑے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ واضح ہو کہ کانگریس صدر نے آج انتخابی ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے انتخابی گٹھ بندھن کے امکانات پر اہم رہنماؤں کے ساتھ بات چیت بھی کی ہے۔ اسی میٹنگ میں مدھیہ پردیش میں اتحاد کو لے کر حامی بھری گئی ہے۔مدھیہ پردیش کانگریس کے انچارج جنرل سکریٹری نے کہاکہ ریاست میں بی ایس پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کو لے کر چل رہی بات چیت تسلی بخش طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ سیٹ کی تقسیم فارمولوں کا مسئلہ خفیہ ہے۔ ہم اب میڈیا کے آگے کچھ کہنا نہیں چاہتے ۔جب فیصلہ ہو جائے گا تو اس کے بارے میں بتائیں گے۔پارٹی تنظیم بی ایس پی کے ساتھ مدھیہ پردیش میں جہاں اتحاد کے حق میں ہے وہیں راجستھان کی ریاستی یونٹ اس حق میں نہیں ہے۔ بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کے امکان پر راجستھان کانگریس کے صدر سچن پائلٹ نے کہا کہ ہم راجستھان میں تمام سیٹوں پر بی جے پی کو شکست دینے کے قابل ہیں۔کسی بھی مخصوص پارٹی کے ساتھ اتحاد کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے راہل گاندھی کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی، ہم نے ان کو حالات مطلع کیا ہے جس کے تحت انتخابات ہوں گے۔ خیال رہے کہ مدھیہ پردیش میں 2013 کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی نے 4 نشستیں جیتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی تقریبا ایک درجن سیٹوں پر دوسرے مقام پر تھی۔ بی ایس پی کے اسی طاقت کو دیکھتے ہوئے کانگریس اس کے ساتھ اتحاد کرنے کو لے کر سنجیدہ نظر آرہی ہے۔