بھٹکل 2 / ستمبر (ایس او نیوز) ساحلی علاقے میں تیز بارش اور ہواوں کے ساتھ بحیرہ عرب میں اٹھنے والے طوفان کی وجہ سے گہرے سمندر میں مچھلیوں کا شکار مشکل ہوگیا جس کے پاس اڑوس پڑوس کے اضلاع کی ماہی گیر کشتیاں بھٹکل تعلقہ کی مختلف بندرگاہوں کی طرف لوٹ آئیں ۔
منگلورو، ملپے اور اڈپی سے ماہی گیری کے لئے نکلی ہوئی تقریباً 20 سے زائد کشتیاں گہرے سمندر سے واپس لوٹ کر بھٹکل تعلقہ کے ماوین کوروے، تنگنگنڈی اور الوے کوڈی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوگئی ہیں ۔ مقامی کشتیوں کے ساتھ ان تینوں بندرگاہوں پر سیکڑوں کی تعداد میں ماہی گیر کشتیاں لنگر انداز ہونے کے بعد یہاں مچھلی فروشی کی تمام سرگرمیاں پوری طرح تھم گئی ہیں ۔
ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ مانسون کے بعد مچھلیوں کے شکار میں اطمینان بخش بڑھوتری نہیں ہوئی ہے ۔ گہرے سمندر میں مچھلیوں کا شکار کرنے والے اکثر ماہی گیر نقصان کے دور سے گزر رہے ہیں ۔ اسی کے بیچ اب جو سمندر میں طوفان اٹھا ہے اس سے کم از کم پانچ چھ دنوں کے ماہی گیری پر روک سی لگ گئی ہے ۔
بھٹکل کے ماہی گیروں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہاں پر ایک اندازے کے مطابق 3820 خاندان ماہی گیری کے پیشہ سے جڑے ہیں ۔ 227 بڑی مشینی کشتیاں ، 620 چھوٹی مشینی کشتیاں، 1562 بالکل چھوٹی پاتی کشتیاں مچھلیوں کے شکار پر نکلتی ہیں ۔ تقریباً 24700 افراد ماہی گیری میں مشغول رہتے ہیں ۔ اس میں ایک خاص بات یہ بھی دیکھی گئی ہے کہ بھٹکل اور اطراف سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک ہزار سے زائد ماہی گیر قریبی ضلع اڈپی کی ملپے اور منگلورو کی بندرگاہوں پر کشتی بان یا مزدور کے طور پر ملازمت کرتے ہیں ۔