ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایران میں قیدیوں کو پھانسی سے قبل اذیتیں دئے جانے کا انکشاف

ایران میں قیدیوں کو پھانسی سے قبل اذیتیں دئے جانے کا انکشاف

Wed, 17 Aug 2016 15:10:09    S.O. News Service

تہران رجیم کا ایک اور مکروہ حربہ بے نقاب،سنی مسلمانوں کے ساتھ تعصب کی انتہا
تہران،17؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے رواں ماہ کے اوائل میں موت کے گھاٹ اتارے گئے اہل سنت مسلک کے شہریوں کیاہل خانہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ قیدیوں کو پھانسی دیے جانے سے قبل ہولناک تشدد کانشانہ بنایا گیا تھا۔کردستان مرکز برائے دفاع انسانی حقوق نے قتل کیے گئے شہریوں کے اہل خانہ کے حوال سے بتایا ہے کہ قیدیوں کو پھانسی دیے جانے سے قبل انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پھانسی دینے سے قبل ان کی ٹانگیں، بازو اور جسم کے دیگر حصوں کی ہڈیا توڑ دی گئی تھیں اور ان کے جسموں پر ہولناک تشدد کی واضح نشانات تھے۔خیال رہے کہ ایرانی حکام نے 2اگست 2016ء کو 25قیدیوں کو پھانسی دے دی تھی، ان میں سے بیشتر کا تعلق اہل سنت مسلک سے تھا۔ اس کے علاوہ 36قیدیوں کو مغربی تہران میں واقع کرج شہر کی رجائی شھر نامی جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ انہیں بھی کسی خفیہ مقام پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔دو اگست کو موت کے گھاٹ اتارے گئے شہریوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کے جسم تشدد کے نشانات سے بھرے پڑے تھے۔ قیدیوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی اور جسم سے باہر نکلی ہوئی تھیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شہریوں نے قیدیوں کو پھانسی سے قبل انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنائے جانے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔یاد رہے کہ دو اگست کو ایرانی انٹیلی جنس اداروں نے 29سالہ شہرام احمدی، دو سگے بھائیوں کاوہ اور آر شریفی، تین بھائیوں محمد یاور، مختار اور بہمن رحیمی، کاوی ویسی، بہروز شاہ نظری، طالب ملکی، احمد نصیری، شاہ ابراہیمی، بوریا محمدی، عالم برماشتی، وریا قادری فرد، کیوان مومنی فرد، ادریس نعمتی، فرزاد ھنرجو، محمد غریبی، کیوان کریمی، امجد صالحی، اومید بیوند، لی مجاھدین، حکمت شریفی، عمر عبداللھی اور دیگر سیاسی قیدیوں کو پھانسی دے دی تھی۔


Share: