نئی دہلی:24مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)میڈیکل میں داخلہ کے لئے نیٹ امتحان میں اردو زبان کو بھی رکھنے کا مطالبہ کرنے والی اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی اوآئی)کی پٹیشن پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا کہ وہ اگلے سال سے اردو زبان کو نیٹ امتحان میں شامل کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔اس سال سے اردو زبان میں امتحان منعقد کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ نیٹ امتحان کا عمل شروع ہو چکا ہے،اسے آگے نہیں کیا جا سکتا ہے۔مرکزی حکومت نے کہا کہ کسی بھی ریاستی حکومت نے اردو کو نیٹ امتحان میں شامل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔مرکز نے اس معاملے پر جواب داخل کرنے کے لئے وقت کی مانگ کی جس کے بعد کورٹ نے 22مارچ تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔سپریم کورٹ کیس کی اگلی سماعت 26مارچ کو ہوگی۔تین مارچ کو ایس آئی او آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور ایم سی آئی کو نوٹس جاری کیا تھا،جس کے بعد مرکز نے یہ جواب داخل کیا ہے۔درخواست میں ایس آئی او آئی نے کہا ہے کہ اردو ملک کی چھٹے سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے لیکن نیٹ کے امتحان میں اس زبان میں امتحان کی اجازت نہیں دی گئی ہے،جبکہ اردو سے کم بولی جانے والی کئی زبانوں میں نیٹ امتحان دینے کی اجازت ہے۔ایم سی آئی کے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق نیٹ امتحان کا انعقاد 10 زبانوں میں کرنے کی تجویز ہے جن زبانوں میں امتحان ہو گا ان میں انگریزی، ہندی، آسامی، بنگالی، گجراتی، مراٹھی، تامل، تیلگو، اڑیا اور کنڑ شامل ہیں۔