بلیا،2/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اترپردیش انتخابات کے لیے اب دومراحل کی ووٹنگ باقی رہ گئی ہے، لیکن سیاسی لیڈروں کی طرف سے ایک دوسرے پر نشانہ سادھنے میں کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔نئے معاملہ میں ریاست کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ سادھا ہے، اکھلیش یادو نے ’کام نہیں، کارنامے بولتے ہیں‘کے سوال پر گھیرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی پر جوابی حملہ بولتے ہوئے کہا کہ کوئی کام نہ کرنا ہی مودی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔اکھلیش نے نگرا علاقے میں ایس پی امیدواروں کی حمایت میں منعقد جلسہ عام میں کہا کہ مودی جی ہمارے کارنامے بتاتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے کام کا اب تک کوئی حساب کتاب نہیں دیا، مودی ترقی پر بحث کرنے سے بھاگ رہے ہیں، دراصل کوئی کام نہ کرنا ہی مودی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔اکھلیش نے کہا کہ اگر وہ ہمارے کارنامے دیکھنا چاہتے ہیں تو آگرہ-لکھنؤ ایکسپریس وے پر آئیں، جو ہم نے تعمیر کرایا ہے۔ایس پی صدر نے کہا کہ ریاست میں بجلی کی فراہمی میں امتیازی سلوک کا الزام لگانے والے وزیر اعظم نے اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں 24گھنٹے بجلی آنے کو لے کر اب تک گنگا ماں کی قسم نہیں کھائی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سوال پر جنگ نہیں لڑ پا رہے ہیں۔انہوں نے مودی کو وزیر اعظم اجو لا اسکیم کے نفاذ کے معاملے پر گھیرتے ہوئے کہا کہ مودی اپنی ہر ریلی میں کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے غریب خواتین کو رسوئی گیس سلنڈر اور چولہا دیا ہے، یہ سچ ہے، لیکن غریبوں نے سلنڈر اور چولہا استعمال کرنے کے بجائے الماری میں رکھ دیا ہے، یہ سوچ کر کہ جب بیٹی کی یا گھر میں کسی اور کی شادی ہوگی تو جہیز میں دے دیں گے۔اکھلیش نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ آپ نے بہت گیس چولہا دے دیا، مگر بتائیے کہ سلنڈر کی قیمت مسلسل کیوں بڑھا رہے ہیں، اور آپ غریبوں کو کتنے مفت سلنڈر دیں گے؟اگر غریبوں کو کبھی سلنڈر کی ضرورت پڑ گئی تو بتائیں، کیا دیں گے؟اکھلیش نے مودی پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے گونڈہ میں کہاتھا کہ اتر پردیش میں امتحانات میں بہت نقل ہو رہی ہے، ہم نے پوچھا کہ سب سے بڑا نقل مافیا تو آپ کے اسٹیج پر بیٹھا ہے، جب امریکہ کے صدر آئے تھے،تو نقل کرکے سوٹ بنوایا تھا، آپ کو بتا ؤ، کس کی نقل کی تھی؟ایس پی صدر نے بی ایس پی سپریمو مایاوتی پر بھی حملہ بولتے ہوئے کہا کہ پتھر والی حکومت کی لیڈر جب لکھی ہوئی تقریر پڑھتی ہیں، تو کرسیوں پر بیٹھی عوام سو جاتی ہے، مایاوتی اب کہہ رہی ہیں کہ وہ میموریل تعمیر نہیں کراوئیں گی، مگر ان پر کون یقین کرے گا۔انہوں نے تو اپنے جیتے جی اپنی پتھر کی مورتیاں لگوا لیں، اپنی ناک، کان، منہ پتھر کا کر لیا، نقدی والا بیگ بھی پتھر کا بنالیا، ویسے تو کہنے کو وہ ہماری پھوپھی ہیں، لیکن بی جے پی سے کب مل جائیں اور رکشا بندھن منالیں، یہ پتہ نہیں۔اکھلیش نے بلیا سمیت پوری ریاست میں سب سے زیادہ سڑکیں بنانے کا دعوی کرتے ہوئے کہاکہ ہماری مت مانو، آپ سرکاری اعداد و شمار نکال لو، اگر کسی نے سڑکیں بنوائی ہے، تو سماجوادی حکومت نے ہی بنوائی ہے۔