لکھنؤ: 26/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)لکھنؤمیں واقع ٹھاکرگنج علاقہ میں ایک انکاؤنٹر کے ذریعہ ہلاک کئے گئے سیف اللہ اور مدھیہ پردیش سمیت دیگر اضلاع سے اے ٹی ایس کی گرفت میں آئے نوجوانوں سے این آئی اے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔منتشر کڑیوں کو جوڑنے میں لگی این آئی اے کی ٹیم اتوار کو مدھیہ پردیش اور دیگر اضلاع سے گرفتار شدگان کو لے کر سیف اللہ کے ٹھکانے پر پہنچی اوران کو سیف اللہ کے پاس سے برآمد چیزیں دکھائی۔ پوچھ گچھ میں معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ یوپی میں کوئی بڑی واردات کو انجام دینے کے لیے آئے تھے۔بتایا گیا ہےکہ ان کا مقصد ریاست میں تشدد پھیلانا تھا، جس کے لیے انہوں نے ریاست سمیت کئی ریاستوں کے مذہبی مقامات اور مذہبی رہنماؤں کو نشانہ پر رکھا تھا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لکھنؤ میں واقع ایک تعلیمی ادارے کے تین وی وی آئی پی شخصیات اُن کے نشانے پر تھے،اسی درمیان سیف اللہ کو انکاؤنٹر میں مارا گیا، تو مدھیہ پردیش سمیت کئی اضلاع سے کئی نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔اس معاملے کی تحقیقات کر رہی این آئی اے کی ٹیم کے انچارج نے بتایا کہ مارے گئے سیف اللہ کے پاس سے برآمد کئے گئے دھماکہ خیز مواد کو سپلائی کرنے والا ان کی ریڈار میں ہے۔کانپور کی دکان میں بھی تصدیق کی گئی ہے۔دعوی کیا جا رہا ہے کہ ان تینوں مشتبہ افراد کے تار بھوپال کے اجین ٹرین دھماکے سے جڑے ہوئے ہیں، ساتھ ہی مدھیہ پردیش سے گرفت میں آئے عاطف، دانش اور میر کو یوپی میں پکڑے گئے افراد سے این آئی اے نے آمنا سامنا کروایا۔انچارج کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش اور یوپی میں بکھرے ان تاروں کو جوڑا جا رہا ہے جس کے بعد ہی وہ کسی نتیجہ تک پہنچ پائیں گے۔وہیں ان کو چارباغ اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 5سے پرتاپ گڑھ-بھوپال ایکسپریس سے واپس لے جایا گیا۔