بنگلورو:6/مئی(ایس او نیوز) 2018 کے اسمبلی انتخابات کیلئے کرناٹک میں تیاریاں مکمل کرنے اور ہمہ وقت ان کی نگرانی کرنے کیلئے اے آئی سی سی نائب صدر راہول گاندھی نے اپنے طور پر حکمت عملی وضع کی ہے اور اس کیلئے اپنے معتمد سکریٹریوں کی ٹیم کرناٹک میں تعینات کرتے ہوئے انہیں بغیر مداخلت کے انتخابات کی تیاریوں کا مکمل اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں مرکزی قائدین کی بے جا مداخلت کے سبب کانگریس کے حق میں آنے والے منفی نتائج کو دیکھتے ہوئے راہول گاندھی نے طے کیا ہے کہ ریاست کے قائدین کو اس بار فیصلے لینے کے سلسلے میں مکمل اختیارات دئے جائیں گے اور ہر معاملہ میں اعلیٰ کمان کی طرف سے بے جا مداخلت نہیں کی جائے گی۔ راہول گاندھی نے ریاستی قائدین کو سخت ہدایت دی ہے کہ اجتماعی قیادت میں انتخابات کا سامنا کرکے پارٹی کو اقتدار پر لایا جائے۔ یہاں تک کہ پارٹی امیدواروں کی فہرست کوقطعیت دینے کے اختیارات بھی راہول گاندھی نے ریاستی قائدین کو پیش کئے ہیں اور کہا کہ قائدین کی طرف سے مقامی حالات کا جائزہ لے کر جس امیدوار کو بھی موزوں مانا جائے گا اعلیٰ کمان کی طرف سے اس پر اتفاق کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے چار سال سے ریاستی قائدین نے پارٹی اور حکومت کو کافی احسن طریقہ سے چلایا ہے، اب انتخابات کے آخری لمحات میں اعلیٰ کمان کی طرف سے مداخلت کرکے ان کے حوصلوں کوپست کرنا درست نہیں ہے۔اسی مقصد کے تحت حال ہی میں ڈگ وجئے سنگھ کو ہٹاکر کیرلاکے رکن پارلیمان وینو گوپال کو کرناٹک امورکا انچارج جنرل سکریٹری بنایا گیا۔ اس سلسلے میں راہول گاندھی نے وزیراعلیٰ سدرامیا، کانگریس پارلیمانی پارٹی لیڈر ملیکارجن کھرگے اور دیگر لیڈران کو واضح کردیا ہے کہ امیدواروں کے انتخاب اور دیگر امور میں باہمی اتفاق رائے سے پہل کی جائے، اعلیٰ کما ن کی طرف سے اس میں غیر ضروری مداخلت نہیں کی جائے گی۔یہ بھی سختی سے کہا ہے کہ امیدواروں کا انتخاب قبل از وقت کیاجائے۔آخری لمحات میں امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا رجحان ختم ہونا چاہئے۔ ان انتخابات کیلئے بی جے پی اور جنتادل (ایس) کی تیاریوں کاحوالہ دیتے ہوئے راہول نے ریاستی قائدین سے کہاکہ وہ دونوں پارٹیاں کانگریس کے مقابلے کافی آگے ہیں۔ اقتدار پر رہتے ہوئے بھی ریاست میں کانگریس اپنی تیاریوں میں پیچھے ہے۔ یہ سلسلہ اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔