نئی دہلی:31اکتوبر(ایس او نیوز/ایجنسی)بی جے پی کے خلاف متحد ہو نے والی 26 پارٹیوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد انڈیا کے تعلق سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اپوزیشن اتحاد کا نام انڈیا رکھے جانے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے عدالت میں جو عرضی داخل کی گئی تھی، اس پر انتخابی کمیشن نے عدالت کے سامنے واضح کیا ہے کہ ہم عوامی نمائندہ ایکٹ 1951 کے تحت کسی بھی اتحاد کو ریگولیٹ نہیں کر سکتے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق انڈیا نام کو لے کر دہلی ہائی کورٹ میں 30 ستمبر کو سماعت ہوئی جس کے دوران انتخابی کمیشن نے اپنا موقف واضح کیا۔
بتاتے چلیں کہ گریش بھاردواج نامی ایک بزنس مین نے دہلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ عرضی داخل کرکے اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کا نام انڈیا رکھے جانے کو لے کر چیلنج کیا تھا۔ اس تعلق سے انتخابی کمیشن نے عدالت میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس(اِنڈیا)کے نام پر ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ عوامی نمائندہ ایکٹ 1951 کے سیکشن 29اے کے مطابق اتحاد ریگولیٹ ادارے نہیں ہوتے ہیں۔
گریش بھاردواج کے ذریعہ داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ انتخابی کمیشن نے انڈیا نام کا استعمال کیے جانے پر کوئی کارروائی نہیں کی، اس وجہ سے عدالت کا رخ کرنا پڑا۔ عرضی میں یہ بھی ذکر ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں انڈیا نام کا استعمال صرف ووٹ پانے کیلئے کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد انڈیا کی میٹنگ بہار کی راجدھانی پٹنہ، کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو اور مہاراشٹر کی راجدھانی ممبئی میں ہو چکی ہے۔ اس اتحاد میں کانگریس، ٹی ایم سی، شیوسینا یو بی ٹی، این سی پی، جنتا دل یو، آر جے ڈی، عآپ اور بایاں محاذ سمیت الگ الگ ریاستوں کی 26 مختلف پارٹیاں شامل ہیں۔ بنگلورو میں 18 جولائی کو ہوئی میٹنگ میں اس اتحاد نے اپنا نام انڈیا رکھا تھا۔