ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / الور سانحہ: پولیس اہلکاروں کی لاپرواہی عیاں ، معطل اہلکار موہن سنگھ کا ویڈیو وائرل

الور سانحہ: پولیس اہلکاروں کی لاپرواہی عیاں ، معطل اہلکار موہن سنگھ کا ویڈیو وائرل

Wed, 25 Jul 2018 01:22:33    S.O. News Service

الور:24/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)راجستھان کے الور میں گؤ اسمگلنگ کے شبہ میں بے رحمانہ پٹائی سے شہید اکبر خان کی شہادت میں پولیس کی لاپرواہی بھی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔ اس میں بنیادی طور پر اے ایس آئی موہن سنگھ کو موقعہ واردات پر بھی گئے اور زخمی کو اٹھا کر لائے تھے موہن سنگھ کے زخمی اکبر خان کو اسپتال پہنچانے میں عمداً تاخیر بھی اس کی موت کا سبب بنی۔ موہن سنگھ کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو میں وہ کہہ رہا ہے کہ صاحب غلطی تو ہو ہی گئی اب جو سزا دینی ہے دے دو۔ ویڈیو میں موہن سنگھ کہہ رہا ہے کہ میرے سے غلطی ہو ئی ہے،میں نے تو صاحب سے کہہ دیا کہ غلطی ہو گئی، کیسے بھی مان لو، سزا دو چاہے چھوڑ دو۔ اکبر خان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی ہے جس میں بے رحمانہ پٹائی سے موت کی بات سامنے آئی ہے۔ واضح ہو کہ اکبر خان کے جسم پر چوٹ کے 12 نشانات ملے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایک ہاتھ، ایک پاؤں کی ہڈی اورپسلیاں ٹوٹی ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔سیکونس آف کرائم جو آہستہ آہستہ سامنے آ رہا ہے اس سے ایک شک یہ بھی گہرا رہا ہے کہ اکبرخان کی موت میں پولیس کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے۔ چار ثبوت اور عینی شاہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔ پہلا ثبوت وہ تصویر ہے جو رام گڑھ تھانے کی ہے جہاں پٹائی کے بعد پولیس زخمی حالت میں اکبر خان کو لے کر آئی۔ تھانے میں بیٹھا تھا اکبر خان یعنی اس وقت تک زندہ تھا، پھر اس کی موت ہوئی ۔ دوسرا ثبوت نول کشور شرما نامی شخص پیش کر رہا ہے کہ پولیس کی پٹائی سے اس کی موت ہوئی۔ تیسرا ثبوت چائے والا دال چند چائے والے کی کہانی اس وقت سامنے آئی جب یہ کہانی سامنے آئی کہ پولیس اہلکار زخمی اکبرخان کو اسپتال لے جانے کی بجائے سڑک پر کھڑے ہوکر چائے پی رہے تھے۔ تب بھی شاید اکبر زندہ تھا اور چوتھا ثبوت خود پولیس کے اسپیشل ڈی جی آر جے ریڈی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار کا فیصلہ بالکل غلط تھا کہ اکبر خان کو اسپتال لے نہیں گئے 


Share: