ابوظبی،17/نومبر (آئی این ایس انڈیا)امارت ابوظبی نے متحدہ عرب امارات کے شہریوں، مکینوں اور غیرمکینوں کے لیے ایک نیا فری لانسر لائسنس متعارف کرایا ہے،اس کے تحت وہ اس امارت میں 48 اقسام کے کام یا کاروباری سرگرمیاں انجام سے سکتے ہیں۔ابو ظبی کے محکمہ اقتصادی ترقی نے ایک اعلامیے میں بتایا ہے کہ نئے لائسنس کے تحت مذکورہ بالا افراد کسی مقامی سروس ایجنٹ یا کسی شراکت دار اماراتی شہری کے بغیر بھی کام کرسکیں گے اور انھیں ان کی خدمات کی ضرورت نہیں ہوگی۔
قبل ازیں غیرملکی ورکر ابوظبی میں کسی کمپنی کے ملازم ہونے کی صورت ہی میں کام کرسکتے تھے۔نیز فری لانس کاروبار کے لیے لائسنس صرف یو اے ای کے شہریوں ہی کو جاری کیے جاتے تھے۔اب نئے فری لانسر لائسنس کے تحت یو اے ای کے غیر شہری اپنی اقامت گاہ یا کسی مجاز جگہ سے کاروباری سرگرمیاں انجام دے سکیں گے۔
محکمہ اقتصادی ترقی کا کہنا ہے کہ نئے لائسنس کا مقصد مخصوص شعبوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا،کاروباری سرگرمیوں کا فروغ، ٹیلنٹ اور مقامی معیشت کی معاونت اور معیشت کو متنوع بنانا ہے۔جن کاروباری سرگرمیوں کے لیے فری لانسروں کو لائسنس جاری کیے جارہے ہیں،ان میں فیشن ڈیزائن، ملبوسات، قدرتی اور جمالیاتی زیب وآرائش کا انتظام، فوٹو گرافی اسٹوڈیو، ایونٹ فوٹو گرافی،تحائف کی پیکجنگ، جیولری ڈیزائن، ویب ڈیزائن، پراجیکٹ ڈیزائن اور مینجمنٹ سروسز، ترجمہ، کیلی گرافی، ڈرائنگ، شماریاتی مشاورت اور مارکیٹنگ آپریشن مینجمنٹ شامل ہیں۔
وام کے مطابق ان کاروباری سرگرمیوں میں کمپیوٹر ہارڈوئیر اور سوفٹ وئیر میں مشاورت، رئیل اسٹیٹ،قانونی مشاورت، تعلقاتِ عامہ، معیاربندی اور کوالٹی مینجمنٹ،پیسٹ کنٹرول، پراجیکٹ ڈویلپمنٹ، پروکیورمنٹ،فنی تنصیبات، گرین بلڈنگز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معاشی مطالعات، انسانی وسائل، سیاحت،انتظامی مطالعات، تحفظِ خوراک، اشیاء، فائن آرٹ،آرکیٹکچرل ڈیزائن، میری ٹائم سروسز،طرز زندگی سے متعلق مشاورت، مارکیٹنگ اسٹڈیز، توانائی کے شعبے میں بنک کاری اور مارکیٹنگ کی خدمات، اسپیس اور لاجسٹیکل مشاورت، فٹنس، آرٹ ورکس،مجسمہ سازی، دست کاری، طباعتی خدمات، نقول سازی، باغبانی، لینڈ اسکیپنگ،کپڑوں پر چھپائی،صابن سازی اور تزئین وآرائش ایسے کام فری لانس لائسنس حاصل کرنے کے بعد کیے جاسکتے ہیں۔