ممبئی:13/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )ممبئی ہائی کورٹ نے ممبئی ہوائی اڈے کے قریب بنیں 110 اونچی عمارتوں کو 3 ماہ کے اندر اندر توڑنے یا اونچائی میں کمی کا حکم ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کو دیا ہے۔ یہ عمارتیں اس جگہ پر ہیں جو جہاز کے محفوظ لینڈنگ اور ٹیک آف کے لئے ایئر پورٹ کے آس پاس کا تعین شدہ علاقہ ہے۔ یہ عمارتیں اندھیری، ولی پارلے، سانتا کروز، باندرا، گھاٹی کوپر اور چیمبرو میں واقع ہیں۔ دراصل 2010-11 میں ایئرپوٹرس اتھارٹی آف انڈیا کے سروے میں ایئرپورٹ کے قریب 110 عمارتوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو محفوظ پروازوں کے لئے خطرہ تھی۔ ایئر پورٹ کاآپریشن کرنے والی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ نے لسٹ کو ڈی جی سی اے کے پاس بڑھایا تھا مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ہائی کورٹ نے ایڈوکیٹ یشونت شین کی جانب سے داخل کی گئی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عمارتوں کو توڑنے یا ان کی اونچائی کم کرنے کا حکم دیا۔ شینی کی دلیل تھی کہ پروازوں کے لئے خطرہ ہونے کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ہائی کورٹ کی بنچ نے اسے سنگین مانا اور کہا کہ ڈ ی جی سی اے کو یقینی طور پر کارروائی کرنی چاہئے۔ ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ کی جانب سے سینئر وکیل پروین سامدانی نے کورٹ میں موقف رکھتے ہوئے ہائی کورٹ کو بتایا کہ 2015-16 کے سروے میں کل 317 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن ڈی جی سی اے کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے فائنل آرڈر پاس کرتے ہوئے ڈی جی سی ا ے کو باقی عمارتوں پر 3 ماہ کے اندر اندر عملدرآمد کی ہدایت دی۔