نئی دہلی:5/جولائی(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے آج کہا کہ نوکرشاہوں کی طرف سے ریاستی حکومت کی ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کرنا عدالت کی توہین کی طرح ہے اور سرکار اس موضوع پر قانونی رائے لے رہی ہے۔سپریم کورٹ کے حکم کے ایک دن بعد سسودیا نے کہا کہ انہوں نے حکام اور مرکز سے فیصلے پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ لیفٹیننٹ گورنر منتخب حکومت کا مشورہ ماننے کا پابند ہے اور وہ رکاوٹ ڈالنے والے نہیں ہو سکتے۔سسودیا نے صحافیوں سے کہا کہ چیف سکریٹری نے مجھے خط لکھ کر بتایا کہ سروس کے سیکشن احکام پر عمل نہیں کرے گا، اگر وہ اس کا عمل نہیں کر رہے ہیں اور تبادلے کی فائلیں اب بھی لیفٹیننٹ گورنر دیکھیں گے تو یہ آئینی بنچ کی توہین ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وکلاء صلاح و مشورہ کر رہے ہیں کہ اس صورت حال میں کیا کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر صرف تین موضوعات میں مداخلت کر سکتے ہیں جن میں سروس کا سیکشن شامل نہیں ہیں۔سسودیا نے کہا کہ میں حکام کے ساتھ ساتھ مرکز سے اپیل کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کریں۔سپریم کورٹ کے کل تاریخی فیصلے کے چند گھنٹے بعد دہلی حکومت نے نوکرشاہوں کے تبادلے اور تقرریاں کے لئے بھی ایک نیا نظام متعارف کرایا جس کے لئے منظوری دینے کا حق وزیر اعلیٰ کجریوال کو دیا گیا ہے۔