علی گڑھ: 15 اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے پیڈیاٹرک سرجری شعبہ میں انڈین ایسو سی ایشن آف پیڈیاٹرکس سرجنس2017کی یو پی اینڈ اترا کھنڈ چیپٹر کی چوتھی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے جی ایم یو کی سابق وائس چانسلر اور بی ایچ یو انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیز میں ایمریٹس پروفیسر پدم شری پروفیسر سروج چونا منی گوپال نے ملک میں نومولود بچوں میں پیدائشی طور پر ہونے والی خامیاں ایک بڑا مسئلہ ہیں اور ان کو روکنے کے لئے جہاں حاملہ خواتین کو بیدار کیاجانا چاہئے وہیں ملک کے تمام میڈیکل کالجوں اور ہسپتالوں میں تربیت یافتہ پیڈیاٹرک سرجن بھی مہیا ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حمل کے قیام سے تقریباً تین ماہ قبل خواتین کو فولنگ ایسڈ جیسی آئرن کی ادویات کا استعمال شروع کرادیا جائے تو پیدا ہونے والے بچے میں خامیوں کو روکا جاسکتا ہے۔ پروفیسر سروج نے کہا کہ آبادی میں اضافہ کے ساتھ اس طرح کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے معالجین سے کہا کہ وہ اسٹیم سیل ریسرچ اور انجینئرنگ میں معاون تحقیق پر بھی اپنی توجہ مرکوز کریں۔انڈین ایسو سی ایشن آف پیڈیاٹرک سرجنس کے صدر پروفیسر ایس این کریل نے کہاکہ حالانکہ ہندوستان نے میڈیکل سائنس کے میدان میں کافی ترقی کرلی ہے لیکن عالمی رینکنگ میں ایشیا کے پچاس میڈیکل کالجوں میں ہندوستان کا کوئی میڈیکل کالج شامل نہیں ہے جس پر خصوصی توجہ دئے جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ معیاری ادارے قائم کرکے دنیا کے سب سے بہترین پچاس میڈیکل کالجوں میں شامل ہوا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دورِ حاضر میں اتر پردیش میں تقریباً 8کروڑ بچوں میں سے ایک کروڑ سے زائد بچے پیدائشی خامی کا شکار ہیں۔میڈیسن فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ایم امان اللہ خاں نے کہا کہ انہیں امید ہی نہیں یقین ہے کہ یہ کانفرنس بچوں اور نومولود بچوں کی سرجیکل ضروریات کو پورا کرنے میں اہم رول ادا کرے گی۔جے این میڈیکل کالج کے پرنسپل اینڈ سی ایم ایس پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ صوبہ میں پیدا ہونے والے ایک ہزار بچوں میں سے53بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں جو قومی اوسط شرح سے بھی زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیدائشی خامیوں کا علاج کرکے پیڈیاٹرک سرجنس شرحِ اموات کو کم کرنے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔پیڈیاٹرک سرجری شعبہ کے سربراہ اور کانفرنس کے آرگنائزنگ سکریٹری پرفیسر آر ایس چاننا نے بتایا کہ اس کانفرنس کے انعقاد سے اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے معالجین کو آپسی تبادلہئ خیال اور تجربات کے تبادلہ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس پیڈیا ٹرک سرجنس اور تربیت حاصل کر رہے معالجین کے لئے سود مند ثابت ہوگی۔پروگرام سے یو پی اینڈ اتراکھنڈ چیپٹر کے صدر ڈاکٹر روی کالے اور آگرہ کے پروفیسر راجیش گپتا نے بھی خطاب کیا۔ حاضرین کا شکریہ ڈاکٹر رضوان احمد خاں نے ادا کیا جبکہ ڈاکٹر نفیس احمد فیضی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اس کانفرنس میں 150سے زائد مندوبین حصہ لے رہے ہیں۔