دمشق،9جون(آئی این ایس انڈیا)دمشق میں دہشت گردی سے متعلق جرائم کی عدالت کے سربراہ جسٹس رضا موسی، حماہ کی مرکزی جیل میں قیدیوں کی رہائی کے احکامات پر دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جیل میں زیرحراست سیاسی قیدیوں اور شامی حکومت کے درمیان طے پائے گئے ایک معاہدے کے تحت ان افراد کو جیل سے رہا کیا جانا ہے۔ جسٹس موسی کی جانب سے بعض سیاسی قیدیوں کے خلاف سزائے موت کے احکامات جاری کرنے کے خلاف جیل میں گزشتہ ماہ دو مرتبہ نافرمانی کی تحریک بھی چلائی گئی تھی۔ایک قیدی نے بتایا کہ جسٹس موسی قیدیوں کی آزادی کے حوالے سے اعلانیہ اور کھلم کھلا طور پر کاروباری معاملات کر رہے ہیں۔ انہوں نے رہائی کے پروانے پر دستخط کے لیے بہت بڑی رقم لاگو کردی ہے جو بعض مرتبہ تو 70 لیرہ یعنی 14 ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔حماہ کی جیل میں قیدیوں کو درپیش بلیک میلنگ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اب تک صرف 14 قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی ہے۔ شامی حکومت نے بھی صرف دو روز قبل زمینی رابطوں کو پھر سے بحال اور کھانے پینے کی اشیاء کو داخل کیا ہے جو کہ حکومت اور قیدیوں کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔یاد رہے کہ حماہ جیل میں نافرمانی کی تحریک اس وقت شروع ہوئی جب جسٹس موسی نے جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے قیدیوں تک یہ پیغام پہنچایا کہ انہیں پھر سے عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں نافرمانی شروع کی گئی جو تقریبا دو ہفتے قبل حکومت کے ساتھ معاہدے کے طے پانے کے بعد ختم ہوئی۔شام کے صدر بشار الاسد نے 5 اگست 2015 کو ایک آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت جسٹس رضا موسی کو جسٹس میمون عز الدین کے بدلے دہشت گردی سے متعلق جرائم کی عدالت کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ تاہم منصب سنبھالنے کے بعد واضح طور پر یہ بات سامںے آچکی ہے کہ جسٹس موسی نے قیدیوں کے خلاف خود دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے۔معلومات کے مطابق شامیوں کی ابتر مالی حالت سے موازنہ کیا جائے تو جسٹس موسی کی جانب سے طلب کی جانے والی رقم بہت بڑی ہے جب کہ یہ 70 لاکھ لیرہ سے کم نہیں کی جاتی۔ اس سلسلے میں جیل کے باہر کے لوگ قیدی کے اہل خانہ سے رابطے میں رہتے ہیں اور ان سے چند لاکھ شامی لیرہ کے بدلے ان کے گھر کے افراد کی رہائی کا وعدہ کرتے ہیں۔ یہ وہ عام طریقہ ہے جو پورے شام میں اس وقت رائج ہے خواہ جسٹس موسی رہائی کے فیصلے کا ذمہ دار ہو یا کوئی اور سرکاری ادارہ۔جہاں تک حماہ جیل کا تعلق ہے تو لگتا ہے کہ یہاں جسٹس رضا موسی رشوت کے معاملے میں وساطت کاروں کا تکلف نہیں کرتے۔ وہ عام طور پر اپنے خصوصی ساتھیوں کو قیدیوں کے پاس بھیج کر رہائی کے لیے ’سودے بازی‘سے آگاہ کرتے ہیں۔جسٹس موسی شامی حکومت اور قیدیوں کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی کررہے ہیں۔ وہ رہائی کے عمل میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور حماہ جیل کے قیدیوں کو پھر سے عدالتی کارروائی کے لیے پیش کرنے کے درپے ہیں۔ ادھر شامی حکومت ان قیدیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو نظر انداز کررہی ہے اور ان وعدوں کو بھی بُھلا رہی ہے جن کے نتیجے میں نافرمانی کی تحریک ختم کی گئی تھی۔ بہرکیف دہشت گردی سے متعلق عدالت کے سربراہ اپنی کرسی پر موجود ہیں اور خود سیاسی قیدیوں کے خلاف دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔