بھٹکل 5/ ستمبر (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ پنچایت کی سہ ماہی کےڈی پی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے افسران کو انتباہ دیا کہ عوام کے مسائل حل کرنے میں اگر رکاوٹ پیدا ہوگی اور اس ضمن میں شکایات ملیں گی تو افسران کے خلاف ضروری کارروائی ہوگی ۔
منکال وئیدیا نے کہا کہ میں کسی بھی وقت کسی بھی دفتر میں پہنچ کر معائنہ کر سکتا ہوں ۔ ایسے موقع پر کام پورا نہ ہونے اور فائلیں التوا میں پڑے ہونے کی بات اگر سامنے آتی ہے یا پھر عوام کی طرف سے ان کام پورا نہ ہونے کی شکایت ملتی ہے متعلقہ افسران کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے گی ۔ افسران کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے انجام دیں یا پھر وہ یہاں سے اپنا تبادلہ کرواتے ہوئے جہاں چاہیں چلے جائیں ۔
میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سویتا کامت نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھٹکل تعلقہ میں چوہے کے بخار سے ایک بزرگ خاتون کی موت ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ این 1 ایچ 1 کے 8 ، ڈینگی 3 اور چوہے کے بخار کے تین معاملے پائے گئے جن کا علاج ہوا ہے ۔ سرکاری اسپتال کے لئے آیورویدک دوائیں سپلائی نہیں ہو رہی ہیں اس کا انتظام کیا جانا چاہیے ۔ جانوروں کے ڈاکٹر نے وزیر موصوف کے علم میں یہ بات لائی کہ جانوروں کے اسپتالوں میں ڈاکٹروں کے عہدے خالی پڑے ہیں ، اور دیہی علاقوں کے کسی بھی اسپتال میں جانوروں کے ڈاکٹر تعینات نہیں ہیں ۔
وزیر منکال وئیدیا نے ہیسکام کے انجینئر کو ہدایت دی کہ بھٹکل کے حلقہ میں کسی بھی قیمت پر پاور کٹ نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے سرکاری بس ڈپو منیجر کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور طلبہ کو کسی بسوں سے سفر میں کرنے کوئی تکلیف اور رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ مضافاتی علاقے میں جانے والی بسوں میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے ۔
محکمہ باغبانی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیر موصوف سوال اٹھائے کہ اس محکمہ سے متعلق افسران ایک سال کے اندر کیوں تبادلہ کرواتے ہیں ۔ اس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف خواہ مخواہ غلط پروپگینڈہ کیا جا رہا ہے ۔ افسران کے تبادلے سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ میں تو صرف سرکاری احکام کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہوں ۔
منکال نے گزشتہ تین سال سے راشن کارڈ تقسیم نہ کیے جانے پر اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے بھٹکل تحصیلدار سے کہا کہ جلد از جلد راشن کارڈ فراہم کرنے کے سلسلے میں ضروری اقدامات کیے جائیں ۔
تعلقہ پنچایت ای او پربھاکر چکمنے کو ہدایت دیتے ہوئے وزیر وئیدیا نے کہا کہ ٹی ایم سی کے لئے جو 600 مکانات منظور ہوئے ہیں ان کی نشاندہی جلد از جلد کی جائے ۔ اس کے علاوہ یو جی ڈی کام کی سست رفتاری کے سلسلے میں بھی میٹنگ طلب کی جائے ۔ سال 2010-11 میں جو 616 مکانات تعمیر ہوئے ہیں ان کے بل نہیں بنے ہیں ۔ اس ضمن میں مناسب کارروائی ہونی چاہیے ۔
انہوں نے تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر سمیت مختلف محکمہ جاتی افسران کو ہدایت دی کہ کتور رانی چینمّا اور مرارجی دیسائی رہائشی اسکولوں کا دورہ کیا جائے اور وہاں پینے کے پانی کے نظام کو فوراً درست کیا جائے ۔
وزیر موصوف نے میٹنگ میں حاضر افسران کو بتایا کہ کانگریسی حکومت نے چار گارںٹی اسکیموں کو جاری کرتے ہوئے اپنے وعدے کے مطابق کام کیا ہے ۔ اسی کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر بھی عمل کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کے دور میں انجام دئے گئے منصوبوں کے سلسلے میں ادائیگی کے لئے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ لیکن اپنے دور میں کوئی ترقیاتی کام نہ کرنے والے بی جے پی کے لوگ ہماری حکومت دیوالیہ ہوجانے کی باتیں پھیلا رہے ہیں ۔ ہماری گارنٹی اسکیموں کے تحت ہر تعلقہ کو ہر مہینہ 50 کروڑ روپے سے زائد فنڈ مل رہا ہے ۔
اس میٹنگ میں اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر نینا، ضلع بیک ورڈ کلاس محکمہ کے افسر اور بھٹکل تعلقہ پنچایت کے ایڈمنسٹریٹر ستیش، ڈی وائی ایس پی شریکانت، تعلقہ پنچایت ای او پربھاکر چکمنے، تحصیلدار تیپّے سوامی اور دیگر محکمہ جاتی افسران موجود تھے ۔