دادری سے گجرات تک بدلا کیا ہے؟ از:راحت علی قاسمی صدیقی

Source: S.O. News Service | By Safwan Motiya | Published on 9th August 2016, 5:45 PM | آپ کی آواز | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

آج بھی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، زبان کپکپا جاتی ہے، قلب میں حدت پیدا ہوجاتی ہے، جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے، کائناتِ انسانی کا ہر فرد اس درد کو یکساں طور پر محسوس کرتا ہے، جب تذکرہ ہوتا ہے دادری کے ایک مظلوم پر ہوئی جبر و تشدد کی داستان کا، اس کی بیوی کا درد، اس کے یتیم بچوں کی بے کسی ملت ہندیہ کا ہر فرد محسوس کرتا ہے اور گائے کے نام پر ہوا قتل ہندوستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ثابت ہواہے۔ دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہوئی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ واقعہ سبق ہوتا اور ملک میں پھر کوئی ایسا سانحہ رونما نہ ہوتا لیکن جو ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے، آئے دن ایسے واقعات ہوتے ہیں جن میں گائے کی حفاظت کے نام پر نوجوانوں اوور بوڑھوں کو نشانہ بنایا گیا، مظفرنگر کے گاؤں کڈلی میں دادری جیسا حادثہ ہونے کے قریب تھا لیکن افراد خانہ نے بھاگ کر جان بچائی، گھر کا سامان توڑ دیا گیا، پورا گاؤں دہشت میں مبتلا رہا، قانون کے رکھ والے تماشا ثابت ہوئے۔ سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے، مدھیہ پردیش میں مسلم خواتین کی پٹائی کی گئی حالانکہ گوشت بکرے کا تھا، اگر گائے کا بھی ہوتا تو ان لوگوں کو سزا دینے کا حق کس قانون اور کس ضابطہ کے تحت حاصل ہوا؟ عجیب حال کہ انہیں کو گرفتار بھی کیا گیا اور تحقیق کہ بعد ضمانت ملی، یہ واقعات عیاں کرتے ہیں کہ ملک کس صورت حال سے دوچار ہے؟ شر پسند عناصر کس موڈ میں ہیں؟ گائے کے نام پر کس طرح مسلمانوں کو زدو کوب کیا جارہا ہے اور مسلم رہنماؤں کی زبان میں حرکت نہیں ہوتی، وہ اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کے لئے اپنے آقاؤں کے زرخرید غلام بنے ہوئے ہیں، جن کی نگاہیں اس جرم کو نہیں دیکھتیں، جن کا قلب اس تکلیف کو محسوس نہیں کرتا اور وہ پارٹی کے منشور کو خدائی دستور سمجھ کر بلا چون چرا عمل پیرا ہوجاتے ہیں، ملک کا منظر نامہ اس تلخ حقیقت کو بیان کررہا ہے اور ظاہر کررہا ہے آنے والا وقت کن مسائل کو اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہے، ان سے ہماری بے اعتنائی، بے رغبتی، عظیم خسارے کی نشاندہی کررہی ہے کیونکہ فرقہ پرست عناصر کو جب ملک کی عزت و عصمت سے پیار نہیں ہے، ان کی حب الوطنی پر مفاد پرستی غالب آگئی ہے، کرسی کی چاہ نے انسانی معیار و اقدار کو گھٹا دیا ہے تو پھر نتائج کی سنگینی کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اب انتخاب کا وقت جوں ہی قریب آئے گا نکل پڑیں گے خودرو گھاس کے مثل، ہر کوئی اپنے آپ کو ملت کا غمگسار، مسلمانوں کا محب ثابت کرے گا، حب ایمانی اور بے شمار رشتوں کی دہائی دے گا ،مسلمانوں کے جذبات سے کھیلے گا اور ان کو بڑی خوبی سے استعمال کرے گا، ایسا احساس ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مسلم چہرے استعمال کرنے کی خاطر ہی اپنے ساتھ رکھے ہیں جو اپنے مفاد کے لئے اپنے اغراض و مقاصد کے لئے خود بھی استعمال ہوتے ہیں اور ملت کے سادہ لوح افراد کے استعمال کا باعث اور ذریعہ بھی ثابت ہوتے ہیں اور یہ کھیل تمام مسلمانوں کی ذلت کا باعث ہے اور چند افراد کی جھولی میں کچھ سکے ضرور حاصل آجاتے ہیں، یہ ہے تصویر کا وہ بھیانک رخ جسے دیکھنا کوئی مشکل کام نہیں۔

آئیے اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کیجئے مسلمان وہ قوم ہے جس نے 950سال اس ملک پر حکومت کی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا، لازوال قربانیاں پیش کیں، ان کی شہرت، عزت، وقار کا ڈنکا پورے عالم میں بجا اور یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ہندوستان کی سب سے باوقار قوم رہی، اس کے برخلاف دلت عرصۂ دراز سے ظلم و ستم ذلت ورسوائی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئے، تعلیم مذہب سماج معاشرہ معیشت ہر میدان میں پستی ہی ان کا مقدر ٹھہری، آج ان کی اور مسلمانوں کی حالت یکساں ہے، وہی رویہ اور طرز ان کے ساتھ ہے اور وہی مسلمانوں کے ساتھ ڈوب مرنے کی بات تو یہی ہے مگر اب معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ روہت وومیلا کے ساتھ ناانصافی ہوئی لوگ سڑکوں پر نکلے، ظلم کے خلاف آواز بلند ہوئی، متکبر افراد کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور معاملہ ایں جا رسید کہ اب اسمرتی ایرانی اس عہدہ پر برقرار نہیں ہیں۔ مایاوتی کو گالی دی گئی، تمام دلت متحد ہوئے، بی جے پی مجبور ہوئی، احتجاج کا اثر یہاں تک ہوا نریش سنگھ کا پارٹی سے اخراج کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمے بھی درج ہوئے، گجرات میں چار دلتوں کو پیٹا گیا، ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا اور نتیجہ گجرات وزیر اعلی کے استعفی کی شکل میں ظاہر ہوا، اگر چہ 75سال سے زیادہ عمر ہونا ان کے استعفیٰ کی وجہ بتائی جارہی ہے مگر استعفیٰ کا خاص وقت سب کچھ بیان کرتا ہے، ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ دلتوں پر یہ مظالم ہوں، انہیں ستایا جائے، تکالیف میں مبتلا کیا جائے، ہمارا منشاء و مقصد ذہنوں پر پڑی گرد کو صاف کرنا اور یہ احساس دلانا ہے کہ دادری اور گجرات میں بدلا کیا ہے۔
مدھیہ پردیش اور حیدرآباد میں تبدیلی کس چیز کی ہوئی وزیر عظم کی خاموشی تک ٹوٹ گئی اور انہوں نے گائے کے محافظوں کو غنڈے، بدمعاش کہنے کی جرأت کی اور غصہ کا اظہار کیا، اگر چہ اس غصہ کی عملی شکل دیکھنے کی خواہش ہر ہندوستانی کے دل میں ہے وہاں بھی تکلیف ہے، درد ہے، ظلم ہے، یہاں بھی پریشانیاں ہیں، مسائل ہیں، ایک مظلوم قوم ان کا سدباب کرنے کے لئے متحد ہے۔ سیاسی طور پر بھی، مذہبی طور پر بھی، سماجی اور معاشی طور بھی اور ایک وہ قوم ہے جہاں بانی جس کی ٹھوکروں میں ہوتی تھی، بلندی جس کا تعارف اور پہچان ہے وہ منتشر ہے۔ ہر محاذ، ہر میدان اور ہر موڑ پر بکھری ہوئی ہے، وقت کا کون سا طوفان ہمیں متحد کرے گا اور زمانے کی کون سی کاری ضرب ہماری عقل و ہوش کو زندہ کرے گی، وقت کی کوکھ میں پوشیدہ ہے مگر عبرت کے لئے یہی کافی ہے کہ ہم دلت مسلم اتحاد کا نعرہ لگارہے ہیں، دلت کو ہم سے کوئی سروکار نہیں، اگر ہوتا تو مایاوتی لوک سبھا انتخاب میں یہ نہ کہتی کہ ہم نے اپنا ووٹ بی جے پی کو دلادیا تاکہ شدت پسند فتح یاب نہ ہوجائیں، جو مسلمانوں کی پسند ہیں اور مسلمانوں نے شدت پسندوں کو ووٹ دیا، وہ ہمارے ساتھ ہماری جماعت کے تقاضوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے مسلم رہنماوں کے بیانات سن لیجئے اور معاملہ کی کیفیت اندازہ لگائیے، ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ دلتوں سے اتحاد نا کیا جائے یا یہ غلط ہے برا ہے بلکہ ایک ٹیس ہے، درد ہے، تکلیف و الم کا احساس قلب پر حاوی ہے، ہم اس مرحلہ تک کیوں پہونچے؟ غور و فکر کا عنوان یہ بھی ہے اور نتائج کا فرق بھی احساس دلارہا ہے، ملک میں ہماری حیثیت کس طرح کی ہے اور ہمارا وقار و اعزاز کہاں گیا؟ فرق یہی ہے کہ ہماری سوچ وفکر تبدیل ہوگئی ہم اقدامات کرنا بھول گئے، ہم زمانے کی رفتار پر برقرار نہ رہ سکے، ہماری فکر تبدیل ہوگئی، ورنہ تنہائی میں غور کیجئے، چند لمحات ہی میں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ گجرات اور دادری میں کیا تبدیل ہوا ہے کہ گجرات میں بی جے پی کی پوری حکمت عملی بکھر کر رہ گئی اور جماعت بڑے فیصلے کرنے پر مجبور ہوئی اور مدھیہ پردیش اور دادری میں کسی سیاسی جماعت کو گجرات جیسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔(ایس اونیوز/آئی این ایس انیڈیا)

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کے سی سی ٹی وی کیمرے کیا صرف دکھاوے کےلئے ہیں ؟

شہر بھٹکل پرامن ، شانتی کا مرکز ہونے کے باوجود اس کو شدید حساس شہروں کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے یہاں سخت حفاظتی اقدامات کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔مندرنما ’’ناگ بنا ‘‘میں گوشت پھینکنا، شرپسندوں کے ہنگامے ، چوروں کی لوٹ مار جیسے جرائم میں اضافہ ہونے کے باوجود شہری عوام حفاظتی ...

امریکہ نے پھر سے کیوں بنایا افغانستان کو نشانہ؟ ........ آز: مھدی حسن عینی قاسمی

 کوئی بھی سرمایہ دار ملک  پہلے آپ  کو متشدد  بناتا ہے اور ہتھیار مفت دیتا ہے پھر ہتھیار فروخت کرتا ہے، پھر جب آپ  امن کی بحالی کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے اوپر بم گرا دیتا ہے. ٹھیک یہی کہانی ہے امریکہ اور افغانستان کی، پہلے امریکہ نے  افغانستان کو طالبان اور  القاعدہ ...

راستے بندہیں سب، کوچہ قاتل کے سوا؟ تحریر: محمدشارب ضیاء رحمانی 

یوپی میں مہاگٹھ بندھن نہیں بن سکا،البتہ کانگریس،ایس پی اتحادکے بعدیوں باورکرایاجارہاہے کہ مسلمانوں کاٹینشن ختم ہوگیا۔یہ پوچھنے کے لیے کوئی تیارنہیں ہے کہ گذشتہ الیکشن میں سماجوادی کی طرف سے کیے گئے ریزویشن سمیت چودہ وعدوں کاکیاہوا؟۔بے قصورنوجوانوں کی رہائی کاوعدہ ...

گجرات فسادات کے قاتل گاندھی جی کا قتل کرنے کے بعد نظریات کو بھی قتل کرنے کے درپہ،کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھولنے لگا ہے۔از:سید فاروق احمدسید علی،

جب سے نریندردامور مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ملک کے حالات میں جیسے بھونچال سا آگیا ہے۔ انہونی ہونی ہوتی نظر آرہی ہے۔وزیراعظم خود کو تاریخ کی ایک قدر آور شخصیت بنانے کے لئے پے درپے نت نئے فیصلے کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس میں چاہے کسی کا بھلا ہو یا نقصان ہو ویسے نقصان ہی زیادہ ...

زرخرید میڈیا .... از: مولانا آفتاب اظہر صدیقی

 آج کی صورت حال یہ ہے کہ بازار میں کچھ ہورہا ہے اور میڈیا کچھ اور دکھا رہا ہے، مظلوم کو ظالم، مقتول کو قاتل، محروم کو خوش بخت اور فقیر کو سرمایہ دار بنا کر پیش کرنا میڈیا کے لیے چٹکی کا کھیل ہوگیا ہے.

مسلم پرسنل لاء کو سمجھئے اور اس پر عمل کیجئے از: محمد ذکی اختر رحمانی

مجھے نہ اس وقت پرسنل لا کی تاریخ بیان کر نی ہے اور نہ اس کے آئینی اور قانونی پس منظر کو آپ کے سامنے پیش کر نا ہے نہ اس سے بحث کرنی ہے کہ مسلم پر سنل لا میں تر میم و تنسیخ کا حق کسی آئین ساز جماعت یا پارلیمنٹ کو ہے یا نہیں ؟۔

یلاپور ندی میں بہہ جانے والے ٹیکسی ڈرائیورکا ابھی تک پتہ نہیں چلا؛ ضلعی انتظامیہ نے کیا نیوی کی مدد لینے کا فیصلہ

یلاپور تعلقہ کے گنیش پال نامی علاقے میں سیاحت کے لئے آنے والے ٹیکسی ڈرائیورمحمد رفیق کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا ہے ، جو شالملا ندی کی تیز لہروں میں بہہ گیا تھا۔

بھٹکل شرالی کے عوام کا شراب خانے کے خلاف کاروار میں احتجاج؛ ڈپٹی کمشنر کو سونپا میمورنڈم

قومی شاہراہ سے 150میٹر دوری پر واقع شرالی کے کوٹے باگیلو میں دوبارہ شروع کی جارہی وائن شاپ (شراب کی دکان )کو منظوری نہ دینے کا مطالبہ لے کر علاقے کے عوام نے منگل کو کارگزار ڈپٹی کمشنر ایل ، چندرشیکھر نائک کو میمورنڈم سونپا۔

مینگلور کے قریب اُلال سمندر میں دو نوجوان غرقاب؛ ایک کی لاش برآمد دوسرے کی تلاش جاری

قریبی علاقہ اُلال  میں بحر عرب کی اونچی اُٹھتی موجوں کے ساتھ  کھیلنے کے دوران دو نوجوان غرقاب ہوگئے، جس میں سے ایک کی لاش برآمد کرلی گئی ہے ، البتہ دوسرا سمندر میں غرق ہوکر لاپتہ ہوگیا ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔ حادثہ آج بدھ کی صبح پیش آیا۔

کاروار کے بیت کول میں پوسٹ ماسٹرکی دھوکہ دہی سے غریب کھاتے دار کنگال ؛ پچاس لاکھ کا غبن کرنے والا پوسٹ ماسٹر فرار

بیت کول کے سب پوسٹ آفس میں مختلف کھاتوں میں اپنی رقم جمع کرنے والے غریب ماہی گیروں کوجن میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں، وہاں کے پوسٹ ماسٹر نے اپنی دھوکہ دہی سے کنگال کردیا ہے۔