مادرِ وطن کی وحدت برقرار رکھنے کا بڑا چیلنج درپیش ہے: سعودی ولی عہد

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 29th April 2017, 1:04 AM | خلیجی خبریں |

ریاض:28/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف نے کہا ہے کہ اس وقت ہمیں مادر وطن کی وحدت کو برقرار رکھنے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔انھوں نے عرب اور قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو ذاتی،نسلی،فرقہ ورانہ مفادات یا کسی نظریاتی اتحاد سے بالاتر ہونا چاہیے۔وہ الریاض میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزارتی اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ”ہم اپنے ممالک اور عوام کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی ترقی اور خوش حالی کو بڑھا سکتے ہیں۔ہماری اس جدید دنیا میں کسی بھی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس کی قومی وحدت کو برقرار رکھنا اور اس کو اندرونی یا بیرونی خطرات سے بچانا ہے“۔
انھوں نے کہا:”قومی اتحاد سے مراد ان کی یہ ہے کہ مادر وطن سے وفاداری ذاتی،گروہی،نسلی یا فرقہ وار مفادات سے بالاتر ہونی چاہیے کیونکہ یہ مفادات تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ایک ایسی قومی وحدت،جس میں ہر فرد کو مادر وطن اور قوم سے متعلق اپنی ذمے داریوں کا احساس ہو اور وہ اپنے معاشرے کی سلامتی اوراستحکام کے لیے کام کرے۔ وہ اپنے دین کے دفاع کے لیے منفی اثرات و انحرافی دانشورانہ رجحانات کا مقابلہ کرے کیونکہ مادرِ وطن کا دفاع اور اس کے دشمنوں کا مقابلہ ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے“۔بحرینی وزیر داخلہ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”ہمیں ایرانی اور عراقی علاقوں سے متعدد سنجیدہ چیلنجز درپیش ہیں“۔کویتی وزیر خارجہ شیخ صباح خالد الصباح نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جانی چاہییں۔متحدہ عرب امارات کے وزیر داخلہ سیف بن زاید آل نہیان نے یمن اور خلیجی ممالک کے دفاع کے لیے خدمات انجام دینے والے فوجیوں کی بہادرانہ کوششوں کو سراہا۔
الریاض میں خلیج تعاون کونسل میں شامل چھے ممالک کے وزرائے داخلہ،دفاع اور خارجہ امور کا مشترکہ اجلاس ہوا ہے۔اجلاس کی صدارت سعودی ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف نے کی۔اس اجلاس کا مقصد خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون اور مختلف شعبوں میں تعلقات و روابط کو مربوط بنانے کے اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔
 

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔