خواتین کی ڈرائیونگ قرآن و سنت کے خلاف نہیں: عبداللہ الترکی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 28th September 2017, 8:34 PM | خلیجی خبریں |

ریاض 28 ستمبر(ایس او نیوز؍آ ئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کی سپریم علماء کونسل کے سینیر رکن اور سرکردہ عالم دین الشیخ عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا قانون قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ قرآن وسنت کی تعلیمات کے منافی نہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں علماء کونسل کے رکن الشیخ عبداللہ الترکی نے کہا کہ خواتین کی ڈروائیونگ اسلامی شریعت کے ضوابط کے خلاف نہیں، تاہم آج تک اگر خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں دی گئی تو اس کا مقصد یہ تھا کہ معاشرے میں کسی قسم کی اخلاقی بے راہ روی پیدا نہ ہو۔ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے ریاست کے قیام کے بعد فساد اور اخلاقی امور کے پیش نظر قرآن وسنت کو ملک کا قانون بنانے کو ترجیح دی۔الشیخ الترکی نے کہا کہ سعودی عرب کی قیادت بھلائی اور سماجی ترقی کی خواہاں ہونے کے ساتھ دین اسلام کے تحفظ اور ریاست کے اسلامی دستور کی عمل داری کے لیے کوشاں ہے۔ سماجی مطالعوں سے ثابت ہوا ہے کہ خواتین کا گاڑی چلانا معاشرے کے لیے ضرر کا باعث نہیں۔ اگر اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں تو وہ بھی جلد ختم ہوجائیں گے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مردوں کیساتھ خواتین کو بھی گاڑی چلانے کی اجازت دینے کے احکامات دیے تھے۔ شاہ سلمان نے فیصلے پر اندرون ملک سے عوام کی جانب سے مثبت رد عمل سامنے آیا ہے اور علماء نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں شاہ سلمان کے فیصلے کو غیرمعمولی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔