بحران کے خاتمے کے لیے قطرکو دہشت گردی کی مدد ختم کرنا ہوگی ،سعودی اور روسی وزراء خارجہ کی ریاض میں ملاقات

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 12:08 AM | خلیجی خبریں |

ریاض،11ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت تمام شعبوں میں تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قطر کے ساتھ اس وقت تک بحران ختم نہیں ہوگا جب تک دوحہ دہشت گردی کی معاونت بند نہیں کرتا۔ سعودی وزیرخارجہ نے ان خیالات کا اظہار اپنے روسی ہم منصب سیرگی لاوروف کے دورہ ریاض کے موقع پہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم قطر سے کیا چاہتے ہیں۔ دوحہ کے ساتھ جاری بحران کا ٹھوس حل کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے مگر یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک قطر دہشت گردی کی حمایت اور مدد بند کرتے ہوئے اشتہاریوں کو پناہ دینے اور دوسرے ملکوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا سلسلہ نہیں روکتا۔

عادل الجبیر نے کہا کہ قطر کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل معاونت اور حمایت پوری دنیا نے مسترد کردی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دوحہ ہمارے تمام مطالبات پورے کرتے ہوئے تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرے۔ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کا ملک شام میں محفوظ زون کے قیام اور سیاسی عمل کے جلد از جلد شروع کیے جانے کا خواہاں ہے۔یمنی بحران سے متعلق روسی موقف کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل اور تنازعات میں ماسکو اور ریاض کے موقف میں کافی حد تک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین۔ اسرائیل امن بات چیت کی بحالی کے لیے نیا طریقہ کار وضع کرنے کوشش کررہے ہیں۔اس موقع پر روسی وزیرخارجہ لاوروف نے کہا کہ ہم روس اور سعودیہ کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کے لیے نئے افق تلاش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو قطر اور دوسرے عرب ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی دور کرنے کے لیے کویت کی ثالثی کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خلیج تعاون کونسل علاقائی تنازعات کے حل کا بہترین فورم ہے اور اس کے وضع کردہ اصولوں کی حفاظت کی جانی چاہیے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ خلیجی بحران کے حل کے لیے جاری مفاہمتی کوششیں جلد ثمر آور ثابت ہوں گی۔

شام کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سیرگی لاوروف نے کہا کہ شام میں محفوظ زون کا قیام بحران کو حل کرنے کا نیا موقع فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دہشت گردی کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور روس شامی اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ایک سوال کے جواب میں لاوروف نے کہا کہ روس اقوام متحدہ اور گروپ چار کے ساتھ مل کر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تنازع کے حل کی حمایت کرتا رہے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کمیونٹی جدہ کا عید ملن یکم شوال کو تزک و احتشام سے منایا گیا

یکم شوال 15 جون 2018کو  جدہ شہر کے بیچوں بیچ بہت ہی خوبصورت پاریس ہال میں بی سی جدہ کے ممبران کے لئے عید ملن منعقد ہوا. کثیر تعداد میں ممبران اور مہمانان بھی شریک ہوئے. پروگرام کا اغاز مولوی عفان ادیاور کی خوش آواز تلاوت کلام پاک سے ہوا.

مسجد الحرام میں غیر ملکی شخص کی خودکشی

سعودی عرب کے شہر مکہ میں اسلام کے مقدس ترین مقام مسجد الحرام میں ایک شخص نے خود کشی کر لی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے مکہ پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ غیر ملکی شہری نے جمعہ کی رات نو بج کر 20 منٹ پر مسجد الحرام کی چھت سے نیچے طواف کرنے کی جگہ پر ...

مسجد نبوی میں سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات پر ایک نظر

مسجد نبوی میں آنے والے زائرین کی نظروں میں سعودی سکیورٹی اہل کار نمایاں ترین حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں۔ یہ اہل کار مسجد کے تمام حصوں اور راستوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے عبادت کے لئے پْرسکون ماحول یقینی بنانے میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔