اجودھیامسئلے کاحل نکالنے کے لئے ہندو فریق ہمیشہ تیار: یوگی آدتیہ ناتھ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 3rd December 2017, 3:32 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی ،2دسمبر (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)   اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اجودھیا تنازعہ کے حل کے لئے دونوں اطراف کے درمیان اگر کوئی رضامندی بنتی ہے تو ریاستی حکومت اس میں تعاون کے لئے تیار ہے۔ہندوستان ٹائمز لیڈرشپ کانفرنس میں شرکت کرنے والے یوگی آدتیہ ناتھ نے آج کہا کہ بابری مسجد،رام مندر تنازعہ کا حل نکالنے کے لئے ہندو فریق ہمیشہ تیار ہے۔ بات چیت سے الگ رہنے والے دوسرے فریق کے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے پر سپریم کورٹ میں ہندو فریق نہیں گیا تھا۔ دوسرے فریق نے ہی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔ اس معاملے پر دونوں فریق اگر بات چیت سے کسی حل پر پہنچتے ہیں تو ریاستی حکومت اس میں تعاون کے لئے تیار ہے۔ اگر دونوں فریق بات چیت سے کسی حل پر نہیں پہنچتے ہیں تو سپریم کورٹ کا ہی فیصلہ سب کو ماننا ہوگا۔مسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اگر بات چیت سے اس تنازعہ کا کوئی حل نہیں نکلتا ہے تو معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ سپریم کورٹ اس مسئلے پر 5 دسمبر سے مسلسل سماعت شروع کرے گا۔ ریاست میں قانون کا راج ہے اور ان کی حکومت کسی کو قانون ہاتھ میں لینے نہیں دے گی۔

مرکز میں نرسمہا راؤ کی حکومت کے وقت بھی اس طرح کی یقین دہانی کرانے کے سوال پر مسٹر یوگی نے کہا کہ اگر اس وقت فیصلہ لے لیا گیا ہوتا تو 1992 کی پوزیشن سے بچا جا سکتا تھا۔ 6 دسمبر 1992 کے پس منظر میں گفتگو کریں گے تو ہمیں بہت کچھ بولنا پڑے گا۔ اچھا ہوگا کہ ہم مستقبل کی سوچیں۔ واضح ہوکہ بابری مسجد- رام مندر تنازعہ کے حل کے لئے آرٹ آف لیونگ کے بانی اور مذہبی پیشوا شری شری روی شنکر نے گزشتہ دنوں بات چیت سے حل کی کوشش کی تھی۔ اس سلسلے میں شری شری روی شنکراجودھیا بھی گئے تھے اور وہاں انہوں نے مسلم لیڈروں اور دوسرے لوگوں سے ملاقات کے علاوہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے بھی ملاقات کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کوپاکستان جیسے بیانات دینے پربہارمیں نقصان ہوچکاہے:اسدالدین اویسی

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسڑاسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ گجرات کے انتخابی جلسوں میں جس طرح کی زبان وزیراعظم نریندر مودی استعمال کر رہے ہیں، اس پر ان کو کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔

’’بھگوا غنڈہ گردی ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ‘‘: آل انڈیا امامس کونسل

ہندوتواوادی اور فسطائی غنڈے نے پھر سے ملک کو شرمسار کر دیا۔ ایک نہتے اور بے قصور مزدور افراز الاسلام کو مزدوری دینے کے بہانے بلاکر پھاوڑے سے قتل کر دینا اور پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا کر جلا دینا ملک کے لیے ایک انتہائی شرمناک معاملہ ہے۔

’’بھگوا غنڈہ گردی ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ‘‘: آل انڈیا امامس کونسل

ہندوتواوادی اور فسطائی غنڈے نے پھر سے ملک کو شرمسار کر دیا۔ ایک نہتے اور بے قصور مزدور افراز الاسلام کو مزدوری دینے کے بہانے بلاکر پھاوڑے سے قتل کر دینا اور پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا کر جلا دینا ملک کے لیے ایک انتہائی شرمناک معاملہ ہے۔

ہوناور تشدد: میرا بیٹا کسی بھی تنظیم کا ممبر نہیں تھا: مہلوک کے خاندان والوں نے کیا انصاف کا مطالبہ

ساحل آن لائن کے نمائندوں نے جب ہوناور میں پریش میستا کے گھر جاکر والدین کے ساتھ تعزیت کی تو انہوں نے بتایا کہ ابھی تک کسی بھی میڈیا والوں نے اُن سے ملاقات نہٰیں کی تھی، ہم پہلے اخباری لوگ ہیں جنہوں نے گھر پہنچ کر حالات جاننے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بیٹے کے قتل پر انصاف کا مطالبہ ...