"بیٹی بچاؤ "، نریندر مودی کا ایک اور منافقانہ ڈرامہ ہے ۔ایس ڈی پی آئی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 14th April 2018, 4:06 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیا ناتھ کی اس بے نیاز خاموشی پر حیرت کا اظہار کیاہے کہ جموں کشمیر اور اتر پردیش کے اناؤ کے عصمت دری کے واقعات جس میں ایک قتل کا واقعہ بھی شامل ہےاور  ان دونوں واقعات نے مہذب دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ دیا ہے۔

ایس ڈی پی آئی نے  ملک میں ہوئے دو بڑے جرم پر وزیر اعظم اور اتر پردیش وزیر اعلی کے رویئے کو پورے ملک کے لیے شرمناک قرار دیاہے۔اور اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں اس بات کی یاددہانی کرائی ہے  کہ بی جے پی نے خواتین کی حفاظت کے تعلق سے بار بار وعدہ کیا تھا۔ لیکن ان کا یہ وعدہ بھی ان کے ہر وعدے کی طرح جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ ریلیز میں ایس ڈی پی اائی نے بتایا ہے کہ اب خواتین کی سلامتی اور حفاظت کا وعدہ بھی ایک اور سیاسی نوٹنکی ثابت ہورہا ہے۔

پریس ریلیز میں نیشنل کرائم ریکارڈس بیوریو کے اعداد و شمار کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم کے چارٹ میں اتر پردیش سر فہرست ہے۔ یوگی آدتیا ناتھ کے پہلے دو ماہ کے اقتدار کے دوران 803عصمت دری کے واقعات اور 729قتل کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید نے اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دسمبر 2012کے نر بھیا معاملے کو کس طرح بی جے پی نے سیاسی طور پر استحصال کیا تھا۔ لیکن اب بی جے پی کے دور اقتدار میں خواتین کے خلاف بہت زیادہ جرائم ہورہے ہیں۔ چاہے وہ جموں کشمیر کے کتھواہ میں ایک آٹھ سال کی بچی کی عصمت دری اور قتل کا معاملہ ہو یا کچ میں نالیہ کی عصمت دری کا واقعہ ہو یا اتر پردیش میں اناؤ کا واقعہ ہو۔  اے سعید نے مزید کہا ہے کہ جموں کشمیر اور اترپردیش ان دونوں معاملات میں سیاسی مفادات، انتظامیہ، پولیس یا وکیل نے مجرم کو بچانے کی کوشش کی ہے اور دوسری طرف ہندتواطاقتیں ایک جرم کو بہانہ بنا کر فرقہ وارانہ آگ لگانے کی کوشش کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ سرکاری افسران اور سیاسی مفاد پرست کی ملی بھگت سے Rapistsکی حمایت کی گئی  ہو ۔ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بیٹی بچاؤ مہم کا جوآغاز کیا تھا وہ صرف ایک سیاسی ہتھکنڈا تھا۔ کتھوہ اور اناؤ میں جو ہوا ہے اس سے ہندتوا حکومتوں کی اصلیت سامنے آرہی ہے۔

ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ جب سے یوگی آدتیا ناتھ اترپردیش کے وزیر اعلی بنے ہیں اب تک ایک ہزار سے زائد انکاؤنٹرس کئے جاچکے ہیں۔ مبینہ طور پر حکومت سابق وزیر سوامی چنا مایانند اور مظفر نگر فسادات کے مقدمات کو واپس لے رہی ہے۔ یوگی آدتیا ناتھ حکومت اب جنگل راج جیسے حکومت کا مظاہر ہ کررہی ہے۔ بھارت ایک ایسا ملک ہے جو ترقی کی تلاش میں ہے۔ اس کے لیے بھارت کے شہریوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے۔ یہ صرف تب ہی ممکن ہوگا  جب ذات، مذہب، سیاست کے تعصب کے بغیر قانون کی حکمرانی قائم ہو اور مجرموں کو بغیر کسی تاخیر کے سزا دی جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھیما کورے گاؤں تشدد:کنوئیں میں ملی 19سال کے چشم دید کی لاش

ایک جنوری کو پونے کے بھیما کوریگاؤں میں دو فرقوں کے درمیان فساد بھڑک گیا تھا۔اس تشدد میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی تھی۔وہیں اس تشدد کی گواہ ایک 19سال کی چشم دید کی لاش فسادات متاثرین کے لئے لگائے گئے ریلیف کیمپ کے پاس ہی ایک کنوئیں میں ملی ہے۔

کرناٹک انتخابات:بی جے پی نے سات امیدواروں کی چوتھی فہرست جاری کی

کرناٹک انتخابات کے سلسلہ میں بی جے پی کی سنٹرل کمیٹی نے سات امیدواروں کی چوتھی فہرست جاری کی ہے ۔جی آر پراوین پاٹل کو بھدراوتی حلقہ،جگدیش کو یشونت پورحلقہ،للیش ریڈی کو بی ٹی ایم لے آوٹ حلقہ،شریمتی ایچ لیلاوتی کو رامانگرم حلقہ،شریمتی نندنی گوڑا کو کنکاپور حلقہ،ایچ کے سریش کو ...

عصمت دری کے لیے موت کی سزا پر کمل ہاسن کا سوال، 14سال کی لڑکیاں کیا بچی نہیں؟

اداکار سے لیڈر بنے کمل ہاسن نے اتوار کو منظور کئے گئے آرڈیننس میں تبدیلی پر حیرت کا اظہار کیا۔ صرف 12 سال سے کم عمر کی بچیوں سے عصمت دری کے معاملات میں موت کی سزا کا التزام کئے جانے پر انہوں نے کہا کہ 14، 15 اور 16 سال کی لڑکیاں کیا بچی نہیں ہیں۔

لکھنؤ کے ہرونی میں اچانک پلیٹ فارم تبدیل کرنے کی اطلاع کے بعد مچی بھگدڑ، ایک مسافر کی موت اور دو دیگرزخمی

اسٹیشن ماسٹر کی چھوٹی سی غلطی نے آج لکھنؤ میں بنتھرا کے ہرونی ریلوے اسٹیشن پر کہرام مچا دیا۔اچانک ٹرین کا پلیٹ فارم بدلے جانے کی اطلاع پر وہاں بھگدڑ مچ گئی۔اس دوران ٹرین کے نیچے آنے سے ایک مسافر نے دم توڑ دیا جبکہ دو زخمی ہیں۔

بھٹکل رکن اسمبلی کی کار روک کر بی جےپی کارکنان نے کی نعرے بازی

پیر کو جب دوحریف سیاسی پارٹیوں کے امیدوار پرچہ نامزدگی داخل کرنےکے دوران کچھ انہونی واقعات پیش آئے ۔ کانگریس امیدوار منکال وئیدیا اے سی دفتر میں پہلے پہنچ کر اپنا پرچہ داخل کرنےمیں مصروف تھے تو اسی وقت بی جے پی امیدوار سنیل نایک بھی اپنےلیڈران کے ساتھ پرچہ داخل کرنے کے لئے ...