آوڈیو ٹیپ معاملہ؛ ایڈی یورپا نے مانی رکن اسمبلی کے بیٹے سے ملاقات کی بات۔ کمار سوامی پر لگایا تیسرے درجے کی سیاست کا الزام

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th February 2019, 7:14 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

ہبلی10؍فروری (ایس او نیوز) کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ کمارا سوامی نے ’آپریشن کنول‘کے تحت سابق وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا کے ذریعے جے ڈی ایس رکن اسمبلی کوخریدنے اور بی جے پی میں شامل کرنے کی پیش کش کا جو آڈیو کلپ جاری کیا تھا اس تعلق سے اب ایڈی یورپا نے قبول کیا ہے کہ انہوں نے گورمیت کل کے ایم ایل اے ناگنڈگوڈا کنڈکور کے بیٹے سے ملاقات کی تھی۔  خیال رہے کہ اس سے قبل ایڈی یورپا نے ا س آڈیو کلپ کو بالکل جھوٹ اور نقلی قرار دیا تھا۔ 

ایڈی یورپانے ہبلی ہوائی اڈے پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچ ہے کہ’’ رکن اسمبلی کے بیٹے شنکراگوڈا سے میں نے ملاقات کی تھی۔‘‘پھر کمار سوامی پر الزام لگاتے ہوئے کہاکہ’’ وہ تیسرے درجے کی گھٹیا سیاست کرنے پر اتر آئے ہیں۔ کمار سوامی نے سازش کے تحت رکن اسمبلی کے بیٹے کو ان کے پاس بھیجا اور اپنے مطلب کی باتیں ریکارڈ کروالیں۔ اس میں کچھ باتیں پوشیدہ رکھ دی گئی ہیں اور اپنے مفاد والی گفتگو کو عام کردیا ہے۔‘‘

ایڈی یورپا نے اس سے پہلے پراجول ریونا کی جانب سے جنتادل ایس میں چل رہے ’سوٹ کیس کلچر‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کماراسوامی نے جو ایم ایل سی سیٹ کے لئے رقم کا مطالبہ کیا تھا اس کی ویڈیو کلپ موجود ہے اور وہ سوموار کے دن اسے عام کرنے والے ہیں۔اس کے علاہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی بات چیت والی جو آڈیو کلپ کمارا سوامی نے جاری کی ہے ، اس تعلق سے جس قسم کی بھی تحقیقات ہونگی اس کا سامنا کرنے کے لئے وہ تیار ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کا بھٹکل دورہ؛ کہا، جمہوریت خطرے میں ہے، اُسے بچانے کے لئے ہر شہری کو آگے آنا ہوگا

اس بار کے انتخابات سب سے زیادہ اہم اس لئے  ہے کہ مودی کے زیر اقتدار ملک کی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جب سے مودی ملک کے وزیراعظم  بنے ہیں ملک کے سرکاری جمہوری اداروں میں  دخل اندازی سے  عدالت تک محفوظ نہیں ہے، ریزروبینک آف انڈیا  ہو ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ہو، سی بی آئی ...

ہلیال میں جے ڈی ایس لیڈر کے گھر پر انتخابی افسران کا چھاپہ ۔تلاشی کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹے افسران؛ کیا بی جےپی کو شکست کا خوف ہے؟

پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر چیک پوسٹس پر تلاشی مہم کے علاوہ ہلیال شہر کے گوداموں، شراب کی دکانوں، موٹر گاڑیوں کی بھی مسلسل تلاشیاں لے رہے ہیں۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...

بھٹکل میں بی کے ہری پرساد کا بی جے پی اور مودی پر راست حملہ، کہا؛ پسماندہ طبقات کومزید کمزور کرنے کی سازش رچی جارہی ہے

بی جے پی بھلے ہی اپنے آپ کو اقلیت مخالف پارٹی کے طور پر پیش کرتی ہو، مگر  دیکھا جائے تو یہ پارٹی حقیقتاً پسماندہ طبقات، دلت اور ادیواسیوں کو  مزید  کمزور کرنے کی سازش میں لگی ہوئی ہے اور صرف ایک طبقہ کو برسراقتدار پر لانے میں کوشاں ہے۔ یہ بات  آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی ...

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کا بھٹکل دورہ؛ کہا، جمہوریت خطرے میں ہے، اُسے بچانے کے لئے ہر شہری کو آگے آنا ہوگا

اس بار کے انتخابات سب سے زیادہ اہم اس لئے  ہے کہ مودی کے زیر اقتدار ملک کی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جب سے مودی ملک کے وزیراعظم  بنے ہیں ملک کے سرکاری جمہوری اداروں میں  دخل اندازی سے  عدالت تک محفوظ نہیں ہے، ریزروبینک آف انڈیا  ہو ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ہو، سی بی آئی ...

بنگلور سے شموگہ اور بھدراوتی لے جانے کے دوران دوکروڑ کی رقم ضبط؛ گاڑی کے ایک ٹائر میں چھپا کر رکھی گئی تھی رقم

الیکشن کا ضابطہ اخلاق لاگو ہونے کے بعد انتخابی قوانین کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے دستے نے کرناٹکا میں اب تک غیر محسوب رقم اور دیگر اشیاء جو ضبط کی ہے اس کی مالیت کا اندزاہ 83کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں سخت نگرانی میں اسٹرانگ رومس منتقل

جنوبی کرناٹک کے 14 پارلیمانی حلقوں میں کل پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران ڈالے گئے ووٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں قید ہیں ، اور ان الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو مرکزی دستوں کی سیکورٹی کے تحت اسٹارنگ رومس میں قید کردیا گیا ہے۔

ملک میں بی جے پی کی لہر اور جال بالکل نہیں ہے مودی انتظامیہ کارپورٹ کارڈ فیل ہوگیا : دنیش گنڈو راؤ

ملک کے کسی بھی علاقہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوئی لہر بالکل نہیں ہے ۔مودی لہر کا جھانسہ دے کر عوام کو جال میں پھانسنے کی کوشش بی جے پی کر رہی ہے ۔یہ باتیں کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہی ہیں ۔آ

میں عہدۂ وزیر اعلیٰ کا دعویدار ضرور ہوں ، لیکن اب نہیں : سدرامیا

 سابق وزیر اعلیٰ اور ریاست میں حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا نے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے متعلق ا پنے بیان کا دفاع کیا اور کہا ہے کہ وہ سرگرم سیاست کا حصہ ہیں کوئی سنیاسی نہیں۔ سیاسی امنگوں کا اظہار کرنے سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔