پانچ ریاستوں میں زوردار کی بارش، سیلاب سے اب تک 465افراد ہلاک

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 29th July 2018, 10:58 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی ،29جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اس بار مانسون آنے کے بعد ہونے والی بارش سے پانچ ریاستوں میں سیلاب اور بارش سے اب تک کم از کم 465افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔وزارت داخلہ کے نیشنل ایمرجنسی رسپانس سینٹر (این ای آرسی)کے مطابق سیلاب اور بارش کی وجہ سے مہاراشٹر میں 138، کیرالہ میں 125، مغربی بنگال میں 116، گجرات میں 52اور آسام میں 34لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔سیلاب اور بارش سے مہاراشٹر کے 26، مغربی بنگال میں 22، آسام میں 21، کیرالہ میں 14اور گجرات میں 10 ضلع متاثر ہیں۔رپورٹ کے مطابق آسام میں 10.17لاکھ لوگ بارش اور سیلاب سے دوچار ہوئے ہیں، جن میں سے 2.17 ملین افراد ریلیف کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔این ای آر سی کے مطابق این ڈی آر ایف کی 12 ٹیم آسام میں راحت اور بچاؤ کے کام میں مصروف ہے۔این ڈی آر ایف کی ایک ٹیم میں 45اہلکار ہوتے ہیں۔مغربی بنگال میں بارش اور سیلاب سے کل 1.61لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ریاست میں این ڈی آر ایف کی آٹھ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ گجرات میں سیلاب اور بارش سے متاثر 15,912 لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ریاست میں این ڈی آر ایف کی 11ٹیم ریلیف اور امدادی کام میں مصروف ہے۔کیرالہ میں 1.43لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔شدید بارش کی وجہ سے ریاست میں 125لوگوں کی موت ہوئی ہے جبکہ نو افراد لاپتہ ہیں۔جنوبی ریاست میں راحت اور امدادی کام کے لیے این ڈی آر ایف کی چار ٹیم تعینات کی گئی ہے، جبکہ تین ٹیموں کو مہاراشٹر میں تیار رکھا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

جے این یو طالب علم عمر خالد پر فائرنگ کے معاملے میں دو گرفتار

یوم آزادی سے دو دن پہلے راجدھانی کے انتہائی محفوظ علاقے پارلیمنٹ سے چند قدم کے فاصلے پر واقع کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے باہر سر عام جے این یو کے طالب علم عمر خالد پر جان لیوا حملے کے معاملے میں دہلی پولس کی اسپیشل سیل نے دو لوگوں کو حراست میں لیا ہے ۔

سیلاب متاثرین کی طرف بسکٹ پھینکنے پر وزیر تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا تنازعے میں گھرگئے؛ کئی حلقوں میں شدید ناراضگی

ریاستی وزیر برائے تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا کی طرف سے کورگ اور رامناتھ پورہ کے سیلاب زدگان کی راحت کاری مہم کے دوران متاثرین کی طرف بسکٹ پھینکے جانے کا معاملہ تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے۔