یلاپور، 4 / جنوری (ایس او نیوز) شہر میں ایک طلاق یافتہ خاتون رنجیتا کو مبینہ طور پر اپنے ساتھ شادی رچانے سے انکار کرنے پر دن دھاڑے چاقو گھونپ کر قتل کرنے والے ملزم رفیق کی لاش قریبی جنگل میں خود کشی کی حالت میں بازیافت ہوئی ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ کل دوپہر کے وقت رنجیتا بنّوڈ (30 سال) نامی خاتون کا گلا چاقو سے کاٹنے کے بعد رفیق یلّور نامی شخص موقع پر سے فرار ہو گیا تھا ۔ سنگین طور پر زخمی رنجیتا کو مقامی سرکاری اسپتال میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد بہتر علاج کے لئے ہبلی کیمس اسپتال میں منتقل کیا جا رہا تھا ، مگر راستے میں ہی اس نے دم توڑ دیا تھا ۔
جان لیوا حملہ کی واردات کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر معائنہ کرنے اور کیس رجسٹر کرنے کے ساتھ ہی مفرور ملزم کی تلاش شروع کر دی تھی اور ملزم رفیق کی تصویر سوشیل میڈیا میں وائرل کی تھی ۔
اس واردات نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرنا شروع کیا تھا جس کی وجہ سے یلاپور شہر میں خوف اور دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا تھا ۔ عوام کی طرف سے اس واردات کی مذمت کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری اور سخت سزا کی مانگ کی گئی تھی ۔
مختلف ہندو تنظیموں نے آج یلاپور بند کا اعلان کیا تھا ۔ کچھ ہندو تنظیموں کے لیڈروں نے یلاپورپولیس اسٹیشن میں جمع ہو کر ملزم کی گرفتاری تک وہاں سے نہ ہٹنے کی ضد پکڑی تھی ۔ حالات بہت ہی زیادہ گھمبیر ہونے کی وجہ سے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپن نے یلاپور میں ہی قیام کیا تھا ۔
اسی دوران میں آج صبح شہر میں یہ خبر عام ہوئی کہ ملزم رفیق نے قریبی جنگل میں خود کشی کی ہے ۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر جائزہ لیا تو رفیق کی لاش ایک درخت سے لٹک رہی تھی ۔ اس ضمن میں مزید تحقیقات جاری ہیں ۔
مقتول رنجیتا بنّوڈ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 12 سال قبل اس کی شادی شولاپور کے سچن کاٹیر نامی شخص کے ساتھ ہوئی تھی ۔ ان کی ایک بچی بھی ہے ۔ ازدواجی رشتے میں دراڑیں آنے کے بعد رنجیتا اپنی بہن کے ساتھ رہنے لگی تھی ۔ حال ہی میں اس نے اپنے شوہر سے طلاق حاصل کی تھی ۔
زندگی گزارنے کے لئے رنجیتا نے سرکاری اسکول میں دوپہر کے گرم کھانے کی اسکیم میں معاون باورچی کا کام انجام دے رہی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ رفیق اور رنجیتا پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے، کیونکہ ان دونوں نے طالب علمی کے زمانے میں ہم جماعت تھے ۔
مقامی طور پر جو باتیں عام ہوئی ہیں اور رفیق پر جو الزامات لگائے جا رہے ہیں اس کے مطابق رنجیتا نے جب شوہر سے طلاق لی تو مبینہ طور پر رفیق نے اس سے اور زیادہ قریب ہونا شروع کیا ۔ موبائل پر بات چیت شروع ہوگئی اوررفیق اپنے ساتھ محبت اور شادی کے لئے اصرار کرنے لگا ۔ جب رنجیتا نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کیا تو قتل کرنے کے مقصد سے رفیق نے سازش رچی اور رنجیتا جب اسکول سے گھر کی طرف لوٹ رہی تھی تو رفیق نے اس کا راستہ روکا اور اس کا گلا کاٹنے کے بعد موقع پر سے فرار ہوگیا ۔
یہ بات بھی سننے میں آ رہی ہے کہ رنجیتا اور رفیق کے درمیان خفیہ رومانس بھی چل رہا تھا ۔ مذہبی اور ثقافتی رکاوٹ کے بیچ اسے پروان چڑھانا ممکن نظر نہیں آ رہا تھا ۔ رنجیتا کی بہن نے رفیق کو اس کے گھر پر رنجیتا سے ملنے کے لئے آنے جانے سے سختی کے ساتھ منع کیا تھا ۔ مبینہ طور پر اس تنبیہ کے بعد رفیق نے کچھ وقت کے خاموشی اختیار کی تھی ، مگر کل اچانک ہی اس نے اس ہولناک واردات کو انجام دیا اور خود کشی کرتے ہوئے اپنی جان بھی دے دی ۔
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ " بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شادی سے انکار اور تعلقات منقطع کرنے سے ناراضگی اس واردات کا محرک ہوگا ۔ ہم ان دونوں کے تعلقات اور کسی باہری دباو جیسے ہر ایک زاویے سے اس معاملے کی جانچ کر رہے ہیں ۔ "
پولیس ذرائع کے مطابق رنجیتا کے قتل اور رفیق کی ظاہری طور پر نظر آنے والی خود کشی کے تعلق سے گہرائی کے ساتھ تفتیش کی جا رہی ہے ۔