ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مغربی بنگال میں ایس آئی آر: مائیکرو آبزرورز کے بجائے 8,505 گروپ بی افسران تعینات کرنے کی ممتا سرکار کی پیشکش

مغربی بنگال میں ایس آئی آر: مائیکرو آبزرورز کے بجائے 8,505 گروپ بی افسران تعینات کرنے کی ممتا سرکار کی پیشکش

Sun, 08 Feb 2026 21:14:30    S O News

کولکاتا 8/فروری (ایس او نیوز) : مغربی بنگال میں جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن ـ ایس آئی آر) کے عمل کے سلسلے میں ممتا بنرجی حکومت نے مرکزی الیکشن کمیشن کو مطلع کیا ہے کہ وہ مائیکرو آبزرورز کے بجائے ریاستی حکومت کے تحت کام کرنے والے تقریباً 8,505 گروپ بی افسران کو تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ اطلاع ایسے وقت دی گئی ہے جب سپریم کورٹ میں ایس آئی آر کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔ 4 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مائیکرو آبزرورز کے کردار پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے مرکزی حکومت کے ملازمین کو مائیکرو آبزرورز مقرر کیا ہے، جو من مانی طریقے سے ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل راکیش دویدی نے عدالت کو بتایا تھا کہ ایس آئی آر کے عمل کی نگرانی کے لیے مغربی بنگال حکومت نے صرف 80 گریڈ-2 افسران (جیسے سب ڈویژنل مجسٹریٹس) فراہم کیے ہیں، جبکہ آنگن واڑی اور آشا کارکنوں سمیت نچلے درجے کے عملے کی تعیناتی پر انحصار کیا جا رہا ہے۔

اس پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے جو کچھ طلب کیا، ریاستی حکومت نے وہ سب فراہم کیا ہے۔ ان کے مطابق ریاست پر جان بوجھ کر دباؤ بنایا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باگچی اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ پیر (9 فروری) کو ایس آئی آر کے خلاف ممتا بنرجی اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت جاری رکھے گی۔ 4 فروری کو ممتا بنرجی نے خود سپریم کورٹ میں اپنے مقدمے کی پیروی کی تھی، جس کے ساتھ وہ بھارت کی تاریخ میں پہلی موجودہ وزیر اعلیٰ بن گئیں جنہوں نے سپریم کورٹ میں ذاتی طور پر دلائل پیش کیے۔ امکان ہے کہ وہ پیر کو بھی دوبارہ دلائل پیش کریں گی۔

عدالت میں سماعت سے قبل ممتا حکومت نے الیکشن کمیشن کو 8 ہزار سے زائد ریاستی ملازمین ایس آئی آر کے عمل کے لیے فراہم کرنے کی پیشکش کر کے مائیکرو آبزرورز پر انحصار کم کرنے کا عندیہ دیا ہے، جن پر مرکز کی ہدایات کے مطابق کام کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ سے مغربی بنگال میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ریاست کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور الیکشن کمیشن عوام پر ’’بلڈوزر‘‘ کارروائی کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ایس آئی آر ضروری ہے تو انتخابی عمل کے قریب ہونے کے باوجود بی جے پی کے زیر اقتدار آسام میں یہ مشق کیوں نہیں کی جا رہی۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایک مرحلے پر یہ ریمارک بھی دیا کہ کسی بھی صورت میں حقیقی ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے حذف نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت نے مرکزی الیکشن کمیشن اور مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 فروری تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

عدالت نے مزید الیکشن کمیشن کو یہ بھی ہدایت دی کہ ناموں کے ہجوں میں معمولی فرق یا دیگر چھوٹی تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر نوٹس جاری کرتے وقت بوتھ سطح کے افسران اور انتخابی فہرست کے ذمہ داران انتہائی احتیاط اور حساسیت کا مظاہرہ کریں۔


Share: