ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / امریکہ کا ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ: تین تنصیبات تباہ، خطے میں شدید کشیدگی؛ نشانہ بنائے گئے مقامات پہلے ہی خالی، ایران کا دعویٰ

امریکہ کا ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ: تین تنصیبات تباہ، خطے میں شدید کشیدگی؛ نشانہ بنائے گئے مقامات پہلے ہی خالی، ایران کا دعویٰ

Sun, 22 Jun 2025 11:26:11    S O News
امریکہ کا ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ: تین تنصیبات تباہ، خطے میں شدید کشیدگی؛ نشانہ بنائے گئے مقامات پہلے ہی خالی، ایران کا دعویٰ

تہران / واشنگٹن / یروشلم – 22 جون (ایس او نیوز) دیر رات کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ کیا، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو ’’مکمل اور فیصلہ کن‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ ایران نے اسے ’’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘‘ کہتے ہوئے اس کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

مختلف میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران کے تین مرکزی جوہری مقامات پر حملہ کیا:

1. فوردو یورینیم افزودگی تنصیب (Fordow) – یہ تنصیب زیر زمین واقع ہے اور ایران کے حساس جوہری پروگرام کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔

2. نطنز جوہری مرکز (Natanz) – یہ ایران کا سب سے بڑا افزودگی پلانٹ ہے جہاں سینکڑوں سینٹری فیوجز نصب تھے۔

3. اصفہان جوہری تحقیقاتی مرکز (Isfahan) – یہ مقام یورینیم کی تبدیلی اور جوہری ایندھن کی تیاری کے حوالے سے اہم ہے۔

امریکی وزارت دفاع کے مطابق، ان مقامات کو GBU‑57 جیسے بھاری وزنی ’بموں کے بم‘ (bunker buster) سے نشانہ بنایا گیا، جو زیرزمین تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے حملے کے بعد اپنے خطاب میں کہا: “ہم نے ایران کے تین اہم ترین جوہری مراکز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ یہ ہماری دفاعی حکمت عملی کا ایک واضح پیغام ہے کہ اگر ایران عالمی امن کو خطرے میں ڈالے گا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے جواب دینے کی کوشش کی تو ’’مزید شدید کارروائی‘‘ عمل میں لائی جائے گی۔

ایران نے حملے کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ:نشانہ بنائے گئے مقامات پہلے ہی خالی کیے جا چکے تھے اور کوئی تابکاری مواد موجود نہیں تھا۔

ایران کے مطابق، یہ ’’پرامن جوہری پروگرام‘‘ پر حملہ ہے، جس کے ’’دور رس نتائج‘‘ ہوں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی مشیر نے کہا:  ’’اب ہماری باری ہے۔‘‘

تابکاری کا خطرہ یا نہیں؟: عالمی جوہری ایجنسی (IAEA) نے حملے کے فوراً بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کے اطراف تابکاری میں اضافہ نہیں دیکھا گیا۔

ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ حساس مواد کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا، اسی لیے تابکاری کا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا۔

اسرائیل میں ہنگامی حالت: حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کے تحت مبینہ طور پر اسرائیل پر درجنوں میزائل داغے، جن میں تل ابیب اور یروشلم جیسے اہم شہر متاثر ہوئے۔

اسرائیلی حکومت نے اسکول بند کر دیے ہیں اور شہریوں سے پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

عالمی ردعمل: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریش نے دونوں فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ: “مشرق وسطیٰ ایک اور تباہ کن جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔”

امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو ’’آئینی اختیارات سے تجاوز‘‘ قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں سوال اٹھانے کا عندیہ دیا ہے، جب کہ ریپبلکن رہنماؤں نے حملے کی مکمل حمایت کی ہے۔

ماہرین اور تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتے ہیں۔ جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی سطح پر ایک سنجیدہ اقدام سمجھا جاتا ہے۔ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی، اسرائیل و امریکہ کی مزید حکمت عملی، اور بین الاقوامی برادری کا مؤقف آنے والے دنوں میں صورتحال کو مزید واضح کرے گا۔


Share: