ہوناور کے گیرسوپا ڈیم سے پھر چھوڑا گیا پانی؛ پانچ گھروں کو کیا گیا خالی؛ کھیتوں اور باغات میں پھر بھرگیا پانی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 8th September 2019, 11:58 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 8/ستمبر (ایس او نیوز)  پڑوسی تعلقہ ہوناور کے گیر سوپا ڈیم سے پھر پانی چھوڑے جانے کے بعد شراوتی بیلٹ پر واقع  دیہاتوں میں ندی کا پانی اُبل کر کھیتوں اور باغات سے ہوتا ہوا گھروں کے کمپاونڈوں کے اندر داخل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے  متعلقہ علاقوں میں رہنے والے عوام کو پھر ایک بار پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ اس بات کی اطلاع شراوتی کونسل کے  سکریٹری جناب مظفر یوسف نے بذریعہ فون  دی۔ انہوں نے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کو گیرسوپا ڈیم سے 70 ہزار کیوسک پانی  چھوڑا گیا ہے جس کی وجہ سے  پھر ایک بار شراوتی  بیلٹ کے   گیرسوپا، سڑلگی، سمسی، کُروا وغیرہ علاقوں میں  پانی  گھروں کے کمپاونڈ کے اندر بھر گیا ہے اور احتیاطی طور پر بوڑھے، بزرگ   لوگوں کو  محفوظ مقامات پرمنتقل کیا گیا ہے تاکہ پانی گھروں کے اندر داخل ہونے کی صورت میں دیگر لوگ فوری طور پر  محفوظ مقام پر منتقل ہوسکیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ  ندی کے بالکل کنارے واقع پانچ مکانوں میں پانی گھس جانے کی وجہ سے مکین فوری طور پر گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

بتایا گیاہے کہ پڑوسی ضلع شموگہ کے  تیرتھاہلی، اگمبے اور  ہوس نگر میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں  اُن پہاڑی علاقوں کا پانی   سیدھے  لنگن مکی پھر وہاں سے  گیرسوپا ڈیم  میں جمع ہوجاتا ہے، چونکہ یہ دونوں ڈیم حالیہ دنوں میں ہوئی بارش سے بھرے ہوئے ہیں،  بارش ہونے کے نتیجے میں ڈیم سے پانی کا اخراج ضروری ہوجاتا ہے۔

شراوتی بیلٹ پر  آئے سیلاب جیسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے  شراوتی بیلٹ کے ہی ولکی قصبہ میں واقع   اتحاد پبلک اسکول  میں  کل پیر کو  گیرسوپا اور سمسی کے  بچوں کو چھٹی کا اعلان کیا گیاہے اسکول کے ایک  ذمہ دار نے بتایا کہ   اُن علاقوں میں گھروں  کے کمپاونڈوں کے اندر پانی بھرا ہے ایسے میں وہاں  کے بچوں کو ولکی اسکول میں لانا    پھر اسکول چھوٹنے کے بعد  اُن کے گھروں تک واپس  پہنچانا دشوار ہے۔

اس تعلق سے ایک اعلیٰ سرکاری آفسر سے  ساحل آن لائن نے رابطہ کیا تو انہوں نے  بتایا کہ  گیرسوپا ڈیم سے پانی کا اخراج گذشتہ چار  دنوں سے برابر جاری ہے اور ڈیم کو اب تک بند نہیں کیا گیا ہے، البتہ ندی میں  اُتار چڑھاو آنے کی صورت میں پانی کبھی  نیچے اُترتا ہوگا  اور کبھی پانی واپس  ندی سے اُبل کر  اطراف کے علاقوں میں داخل ہوجاتا ہوگا۔ان کے مطابق گیر سوپا ڈیم کا گیٹ فی الحال بند نہیں کیا گیاہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں بجلیوں کی چمک اور بادلوں کی گرج کے ساتھ موسلادھار بارش؛ بینگرے میں ایک گھرکو نقصان، ماولی میں الیکٹرانک اشیاء جل کر راکھ؛ الیکٹرک سٹی سپلائی بری طرح متاثر

آج منگل دوپہر کو ہوئی موسلادھار بارش اور بجلیاں گرنے سے ایک مکان کو نقصان پہنچا وہیں دوسرے ایک مکان کی الیکٹرانک اشیاء جل کر خاک ہوگئی۔

بھٹکل: جے این یو کے لاپتہ متعلم نجیب احمد کو ڈھونڈ نکالنے  اور اُس کے ساتھ انصاف کرنے  کا مطالبہ لے کر ایس آئی اؤ آف انڈیا کا ملک گیر احتجاج : بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو بھی دیا گیا میمورنڈم

15اکتوبر 2016کو جواہر لال یونیورسٹی میں ایم ایس سی کےفرسٹ ائیر میں زیر تعلیم نجیب  احمد یونیورسٹی کے ہاسٹل سے لاپتہ ہوئے تین سال ہورہےہیں ،گمشدگی کی پہلی رات کو ہاسٹل میں اے بی وی پی کے کارکنان نے حملہ کیا تھا، مگر اس معاملے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہونے پر اسٹوڈنٹس اسلامک ...

بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا کا تبادلہ :ایماندار آفسران کے تبادلوں پر عوام میں حیرت ؛کے اے ایس آفیسر  اے رگھو ہونگے نئے اے سی

بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا کا تبادلہ کرتےہوئے ریاستی حکومت نے حکم نامہ جاری کیا ہے، ساجد ملا کے عہدے پر کے اے ایس جونئیر گریڈ کے پروبیشنری افسر اے رگھو کا تقر ر کیاگیا ہے۔ اس طرح تعلقہ کے اہم کلیدی عہدوں پر فائز ایماندار افسران کے تبادلوں کولے کرعوام تعجب کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ جنگلات کے افسران کے خلاف بھٹکل پولس اسٹیشن کے باہر احتجاج؛ اے ایس پی کو دی گئی تحریری شکایت

جنگلاتی زمین کے حقوق کے لئے لڑنے والی ہوراٹا سمیتی کے کارکنان نے آج بھٹکل ٹاون پولس تھانہ کے باہر جمع ہوکر محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا اور بھٹکل سب ڈیویژن کے اسسٹنٹ ایس پی  کے نام میمورنڈم پیش کیا۔ 

ضلع شمالی کینرا میں آج بھی 24ہزار خاندان گھروں سے محروم ! کیا آشریہ اسکیم کے ذریعے صرف دعوے کئے جاتے ہیں ؟

حکومت کی طرف سے بے گھروں کو مکانات فراہم کرنے کی اسکیمیں برسہابرس سے چل رہی ہیں۔ اس میں سے ایک آشریہ اسکیم بھی ہے۔ سرکاری کی طرف سے ہر بار دعوے کیے جاتے ہیں کہ بے گھروں اور غریبو ں کا چھت فراہم کرنے کے منصوبے پوری طرح کامیاب ہوئے ہیں۔

بھٹکل کے آٹو رکشہ ڈرائیور بھی ایماندار؛ بھٹکل میں تین لاکھ مالیت کے زیورات سے بھری بیگ لے کر رکشہ ڈرائیور پہنچا پولس اسٹیشن

  بھٹکل میں  راستے پر  کوئی  قیمتی چیز کسی کو گری ہوئی ملتی ہے  تو اکثر لوگ  اُسے اُس کے اصل مالک تک  پہنچانے کی کوشش کرنا عام بات ہے،  بالخصوص مسلمانوں کو راستے میں پڑی ہوئی  کوئی قیمتی چیز مل جاتی ہے تو     لوگ یا تو خود سے سوشیل میڈیا  میں پیغام وائرل کرکے  اُسے اُس کے اصل ...