اُڈپی میں سدرامیا کاکانگریس سماویش سے خطاب : ساحلی پٹی پر کانگریس استحکام کے لئے سدبھاؤنا یاترا کا اہتمام

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 7th November 2019, 7:08 PM | ساحلی خبریں |

اُڈپی:07؍نومبر(ایس اؤ نیوز)فی الوقت رائے دہندگان بی جےپی سے کافی بیزار اور مایوس ہیں، بی جےپی کا واحد متبادل کانگریس ہی ہے، دستور، جمہوریت کی بقا کے لئے کانگریس کا دوبارہ اقتدار میں آنا ضروری ہے، جس کے لئےکارکنان کی قوت درکار ہونے کا ودھان سبھا میں حزب مخالف لیڈر سدرامیا نے خیال ظاہر کیا۔

شہر کے پوربھون میں کانگریس سماویش کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتےہوئے سدرامیا نے کہاکہ ساحلی پٹی پر کانگریس  کمزور ہے یہ بات سچ ہے مگر اس کو مضبوط و مستحکم کرنا ہے  ، اس سے پہلے جس طرح اُلال سے اُڈپی تک جس طرح سدبھاؤنا یاترا کی گئی تھی پارٹی کے استحکام کے لئے دوبارہ ایسی یاترا کرنےکااعلان کیا۔

بی جے پی پر سخت تنقید کرتےہوئے سدرامیا نےکہاک بی جے پی ایک جھوٹی پارٹی ہے، عوام کے سروں میں جھوٹ اور نفرت بھر کر اقتدار پایا ہے، سدرامیا ، راہل گاندھی مسلمانوں کے حمایتی ، ہندو مخالف ہونےکا شوشہ چھوڑا ہے، ہم بی جےپی کی طرح ڈھونگی ہندونہیں ہیں، خالص ہندو ہیں، مسلم ، عیسائی ، ہندو کو بیک وقت ایک ساتھ متحدہ طورپر لے کر چلنے والی پارٹی کانگریس ہے۔ بی جےپی کو اقتدار کی تقسیم پر اعتماد نہیں ہے، پسماندہ ، اقلیت، دلت اور عورتوں کو اقتدار دینے کےلئےوہ تیار نہیں ہیں، اسی لئے ریزوریشن رد کرنےکےلئے بی جےپی لیڈر راماجوئس سپریم کورٹ میں رٹ عرضی داخل کرنےکا حوالہ دیتےہوئے تنقید کی ۔

بی جےپی اپنے 6سالہ اقتدار میں کوئی بہتر کام نہیں کیا ہے، نوٹ بندی، جی ایس ٹی کے نام پر غریبوں کو پریشان کرنا ہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ بتاتے ہوئے تنقید کی۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی نہیں ہوئی ، جی ڈی پی پاتال کو پہنچ رہی ہے، بیرونی ممالک سے کالا دھن نہیں آیا۔ عالمی بھوک فہرست میں بھارت، نیپال، پاکستان سے بھی پیچھے ہے۔ غربت اور روزگار میں اضافہ ہورہاہے، صنعت کار ی بند ہورہی ہے۔ سدرامیا نے کہاکہ ملک کی تاریخ میں مودی جیسا جھوٹا وزیرا عظم کبھی  دیکھنا ممکن نہیں ہے۔

بی جےپی میں کوئی ایسا نہیں ہے جس نے ملک کی آزادی میں شریک ہواہو، اسی لئے سردار ولبھ بھائی پٹیل سے ناانصافی کا بہانہ بنا کر انہیں اغواء کیاگیا ہے۔ امبیڈکر، گاندھی جی بھی ہمارے ہیں، سدرامیان نے سوال کیا کہ دستور بدلنے والوں ، گاندھی جی کے قاتل گوڈسے کو پوجنے والوں کی  حقیقت میں  کیا کوئی اخلاقی حیثیت بھی ہے۔ انہوں نے کانگریس حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے کئی اسکیموں کا تذکرہ کرتےہوئے بتایا کہ بی جےپی منصوبہ بند سازش سے جھوٹ کو پھیلانےکا الزام لگایا۔

پروگرام میں مہیلاکانگریس کی صدر پشپا امرناتھ، کانگریس ضلع صدر اشوک کمار، لیڈرران ونئےکمار سورکے ، پرمود مدھواراج،  وشوناتھ نارائن سوامی ، گوپال پجاری ، جی اے باوا، عبدالغفور ،روشنی اولی ویرا وموجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی میں کوویڈ کے بڑھتے معاملات پر بھٹکل کے عوام میں تشویش؛ پڑوسی علاقہ سے بھٹکل داخل ہونے والوں پر سخت نگرانی رکھنے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ

بھٹکل کورونا فری ہونے کے بعد اب پڑوسی ضلع اُڈپی میں روزانہ پچاس اور سو کورونا معاملات کے ساتھ  پوری ریاست میں اُڈپی میں سب سے  زیادہ کورونا کے معاملات سامنے آنے پر بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ اُڈپی سے کوئی بھی شخص آسانی کے ساتھ ...

نیسرگا‘طوفان کے دوران طوفانی ہوا اور بارش سے ہیسکام کو کاروار میں ایک ہی دن 8لاکھ اور بھٹکل میں 1 لاکھ سے زائد کا نقصان

مہاراشٹرامیں تباہی مچانے والا ’نیسرگا‘ طوفان ویسے تو کرناٹکا کے ساحلی علاقے کو چھوتا ہوانکل گیا، مگر جاتے جاتے بھٹکل سمیت  کاروار شہر اوراطراف میں اپنے اثرات ضرور چھوڑ گیا۔

مینگلور: آئندہ صرف کورونا سے متاثر افراد کے گھروں کو ’سیل ڈاؤن‘ کیا جائے گا۔ علاقے کو’کٹینمنٹ زون‘ نہیں بنایا جائے گا؛ میڈیکل ایجوکیشن منسٹر کا بیان

سرکاری سطح پرکووِڈ 19کی وباء پر قابو پانے کے لئے ابتدا میں جوسخت اقدامات کیے جارہے تھے، اب بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ان میں نرمی لانے کا کام مسلسل ہورہا ہے۔

کرناٹکا میں آج پھر 257 کی رپورٹ کورونا پوزیٹو؛ اُڈپی میں پھر ایک بار سب سے زیادہ 92 معاملات؛ تقریباً سبھی لوگ مہاراشٹرا سے لوٹے تھے

سرکاری ہیلتھ بلٹین میں پھر ایک بار  کرناٹک میں آج 257 لوگوں میں کورونا  کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ معاملات پھر ایک بار ساحلی کرناٹک کے ضلع اُڈپی سے سامنے آئے ہیں۔ بلٹین کے مطابق آج  اُڈپی سے 92 معاملات سامنے آئے ہیں اور یہ تمام لوگ مہاراشٹرا سے لوٹ کر اُڈپی پہنچے تھے۔