اگر حیدرآباد انکاؤنٹر جائز ہے تو پھر ماب لنچنگ بھی جائز ہونی چاہئے۔۔۔۔۔ از:اعظم شہاب

Source: S.O. News Service | Published on 8th December 2019, 10:58 PM | اسپیشل رپورٹس |

ممبئی میں انڈرورلڈ کی کمر توڑنے کے لئے پولیس اور حکومت نے مل کر ایک ’ہتھیار‘ ایجاد کیا تھا، جس کا نام ’انکاؤنٹر‘ تھا۔ یہ ہتھیار غنڈوں کو ٹھکانے لگانے میں بہت کارآمد تھا اور اس کا استعمال کرتے ہوئے ہمارے بہت سے پولیس اہلکار ’ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘ بن کر ملک کے سامنے نمودار ہوگئے تھے۔ پردیپ شرما، وجئے سالسکر، دیا نائیک، سچن وزے اور روندرآنگرے جیسے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ اسی یا اس کے آس پاس کے دور کی پیداوار ہیں۔ انکاؤنٹر کے یہ ماہرین ہفتے میں ایک آدھ انکاؤنٹر ضرور کردیا کرتے تھے، جس کی اسکرپٹ اس وقت اخبارات میں کام کرنے والوں کو ازبر ہوگی۔ پولیس پریس روم میں فون کرکے جب انکاؤنٹر کی تفصیل لی جاتی تھی تو وہاں بیٹھا اہلکار وقت، جگہ اور پولیس افسر کا نام بتانے کے بعد کہتا تھا’ باقی سب کچھ وہی ہے‘۔

اس ’باقی سب کچھ وہی ہے‘ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ’پولیس کو اپنے سورس سے معلوم ہوا کہ فلاں شخص وہاں آنے والا ہے، پولیس پہلے سے وہاں اس کی تاک میں موجود تھی، جیسے ہی وہ شخص وہاں آیا، پولیس نے اسے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے لئے کہا، جس پر اس نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی، پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی، جس میں وہ بری طرح زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیدیا۔ اس انکاو ¿نٹر پر ابتداءسے ہی اعتراض ہوتے رہے ہیں اور پولیس کٹہرے میں کھڑی ہوتی رہی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ملک میں کہیں نہ کہیں جاری رہتا ہے۔ جیسا کہ حیدرآباد میں ہوا۔

حیدرآباد میں مویشیوں کے ڈاکٹر کے ساتھ جو حیوانیت ودرندگی کا واقعہ پیش آیا جس میں اس معصوم کو اپنی جان گنوانی پڑی، اس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں جب اس حیوانیت کے ملزمین ایک پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے تو بہت سے لوگوں نے خوشیاں منائیں، مٹھائیں تقسیم کیں اور پولیس والوں کو ہارپھول پہنا کر ان کا استقبال کیا۔لوگوں کی یہ خوشی جائز بھی تھی کہ کیونکہ اس طرح کی حیوانیت کرنے والوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جانے چاہیے جو ان کے ساتھ ہوا بھی۔ واقعتا اس طرح کی دردنگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو ایک دن بھی زندہ رہنے کا حق نہیں ملنا چاہئے۔

لیکن اس انکاؤنٹر اور اس پر منائی جانے والی خوشیوں سے پرے اگر ہم اس واقعے پر غور کریں توکچھ ایسے افسوسناک سوال ہمارے سامنے آجاتے ہیں، جن جواب سے ہم اپنی آنکھیں چرا رہے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ پولیس نے جن لوگوں کو گرفتار کیا تھا، کیا وہ واقعتاً مجرم تھے؟ کیونکہ گرفتاری سے لے کر انکاؤنٹر تک جو بھی معلومات ہمارے سامنے آئی ہیں، ان میں پولیس صرف اور صرف پولیس کا ورژن ہے۔ پولیس نے کہا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا انہوں نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے، ہم نے مان لیا کہ وہی مجرم ہیں۔ پولیس نے کہا کہ رات دو بجے انہیں جائے واقعہ پرریہرس کے لئے لے جایا گیا تھا، ہم نے مان لیا کہ ایسا ہی ہواہوگا۔ پولیس نے کہا کہ یہ لوگ پولیس کا اسلحہ چھین کر پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کررہے تھے جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی جس میں یہ لوگ موقع واردات پر ہی ہلاک ہوگئے، ہم نے طئے کرلیا کہ بالکل ایسا ہی ہوا ہوگا۔ کیونکہ ہمارے اعصاب پر مہلوکہ مویشی ڈاکٹر کے ساتھ ہوئی درندگی کا اتنا غصہ سوار ہے کہ ہم اس کے مجرمین کو کسی بھی قیمت پر کیفرِ کردار تک پہونچا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، اور اگر موقع مل جائے تو ہم خود اسے کیفرکردار تک پہونچانے کے لئے تیار ہیں جیسا کہ پارلیمنٹ میں جیا بچن نے کہا تھا کہ ان ملزمین کو عوام کے حوالے کردیا جائے۔

جن لوگوں کا کبھی پولیس سے کوئی سابقہ پڑا ہو یا جو لوگ پولیس کی تفتیش کے طریقہ کار سے واقف ہوں، انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگی کہ پولیس جرم کا اعتراف کیسے کراتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چند خاص قوانین کے علاوہ دیگر تعزیری قوانین کے تحت درج مقدمات میں پولیس کے سامنے دیا گیا ملزم کا بیان عدالت میں ناقابل قبول ہوتا ہے۔ پولیس کو اپنے موقف میں دلائل وثبوت عدالت کے سامنے پیش کرنے ہوتے ہیں۔ لیکن حیدرآباد کے معاملے میں تو عدالت کی ضرورت صرف ریمانڈ لینے تک ہی پڑی۔ نہ تو عدالت کے سامنے مقدمہ چلا، نہ ہی اس پر جرح ہوئی نہ ہی فرد جرم عائد ہوئی اور نہ ہی ملزمین پر جرم ثابت ہوسکا۔ پھرکیسے طئے کرلیا جائے کہ پولیس نے جنہیں مجرم بتایا وہ واقعتاً مجرم تھے؟ اگر کسی کو اس بارے میں کچھ تذبذب ہو تو وہ دو سال قبل ستمبر 2017میں پیش آئے ہریانہ کے ریان اسکول کے واقعے کا آموختہ دہرا سکتے ہیں جس میں اسکول کے ایک سات سالہ بچے کے قتل کے الزام میں اسکول بس ڈارائیور کو گرفتار کیا گیا تھا، میڈیا سمیت سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ڈارائیور کو مجرم ثابت کررہی تھی، پولیس کے سامنے اس نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا تھا لیکن بعد کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ اس بچے کا قتل اسکول کے ہی ایک سینئر طالب علم نے کیا تھا۔

چلئے ہم بھی دیگر لوگوں کی مانند اس معاملے میں ملزموں کی موت پر خوشی منالیتے ہیں اور یہ فرض کرلیتے ہیں کہ پولیس نے جنہیں گرفتار کیا تھا، وہ واقعتاً مجرم تھے۔ پھر بھی ہمارے پاس اس سوال کا کیا جواب ہوگا کہ آخر پولیس کو سزا دینے کا اختیار کس نے دیا؟ پولیس قانون کی محافظ ہوتی ہے، اس کا فرض ہوتا کہ قانون توڑنے کے مرتکبین کو عدالت کے کٹہرے میں لائے۔ لیکن یہاں تو پولیس نے خود ہی فیصلہ کردیا۔ اگر پولیس کا یہ عمل درست ہے تو پھر ہمیں ملک میں ہونے والی ماب لنچنگ کے واقعات پر بھی آواز اٹھانے کا کوئی حق نہیں رہتا۔ کیونکہ ماب لنچنگ میں بھی ایک بھیڑ کسی شخص کو مجرم سمجھ لیتی ہے اور پھر اس کا قتل کردیتی ہے۔ اگر پولیس کا یہ انکاو ¿نٹر جائز ہے تو پھر ماب لنچنگ بھی جائز ہونی چاہئے۔

اب آخر میں کچھ باتیں کینڈل مارچ کرنے والوں سے۔ یہ کینڈل مارچ کرنے والے یا تو دہلی میں نربھیا معاملے میں نظر آئے تھے یا پھر حیدرآباد کے معاملے میں نظر آئے ہیں۔ اس درمیان یہ سمینار ولکچرس میں انگریزی میں تقریریں کرتے ہوئے نظر تو آئے لیکن شاید اس درمیان انہیں کینڈل مارچ کی ضرورت نہیں پڑی۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نربھیاکے وقت کے کینڈل مارچ سے ملک میں عصمت دری کے واقعات اچانک رک گئے تھے اور اب ایک بار پھر بدقسمتی سے شروع ہوگئے۔ کیونکہ ان کینڈل مارچیوں کی حرکتوں سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ ملک میں ہر گھنٹے 18سے زائد عصمت دری کے واقعات ہورہے ہیں۔ جس دن حیدرآباد میں مویشیوں کے ڈاکٹر کے ساتھ درندگی ہوئی ، اسی دن جھارکھنڈ کے رانچی میں ایک دلت طالبہ کے ساتھ درجن بھر لوگوں نے اجتماعی عصمت دری کی، سنبھل میں ایک معصوم بچی کے ساتھ گینگ ریپ ہوا، کوئمبٹور میں ایک بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری ہوئی۔ لیکن کینڈل مارچ نکلا تو صرف حیدرآباد کے واقعے پر۔

میں حیدرآباد کے واقعے پر ہوئے احتجاج کا زبردست حامی ہوں، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی چاہتاہوں کہ اناؤمیں عصمت دری کی شکار اس لڑکی کے لئے بھی ایک آدھ کینڈل جلادی جائے جس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی، ملزمین گرفتار ہوئے، ضمانت پر رہا ہوئے، پھر اس بدنصیب کو زندہ جلادیا جس میں وہ 95فیصد جل گئی اور 7دسمبر کو جس کی موت ہوگئی۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس کی موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہونا سامنے آیا ہے۔کیا جس کے ساتھ زیادتی ہو وہ انگریزی بولنے والی، ماڈرن، رات رات بھر اپنے بوائے فرینڈکے ساتھ گھومنے والی ہو تو ہی اس پر ہوا ظلم ظلم ہوگا؟ جن غریب، دلت اور کمزور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے کیا ان کے لئے اس لئے آواز نہیں اٹھ رہی ہے کہ وہ ماڈرن نہیں ہیں؟ کیا عورتوں کے حقوق کی آواز اٹھانے والی کسی تنظیم تک میری یہ بات پہونچ سکتی ہے کہ اناؤکی لڑکی کو مار ڈالنے والوں کو وہاں کی حکومت اور انتظامیہ بچانا چاہتی ہے ، جس کے خلاف بھی آواز اٹھانی چاہئے؟ یا پھر اس طرح کے واقعات پر پولیس کو اپنا آزمودہ ہتھیار ہی استعمال کرنا چاہئے جسے انکاؤنٹر کہا جاتا ہے۔ ویسے یوپی پولیس یوگی جی کے براجمان ہونے کے بعد سے اس کا خوب استعمال کررہی ہے اور اگر نہیں استعمال ہورہا ہے تو منہہ سے ہی 'ٹھائیں ٹھائیں' کردیتی ہے۔ باتیں بہت ہیں، اتنے میں ہی مضمون اس قدر طویل ہوگیا، مزید ہوگیا تو پھر پڑھے گا کون؟

ایک نظر اس پر بھی

کنڑا روزنامہ کا بی جے پی پر پھر وار؛ لکھا،کرناٹک سے بی جےپی کے 25ایم پی منتخب ہونے کے باوجود مرکز نے کیا کرناٹک کو نظر انداز

بی جےپی اور اس کے لیڈران سمیت پالیسی کی زبردست حمایت کرنےو الے کنڑا روزنامہ ’وجئے وانی ‘ نے دوسرے دن بھی اپنے فرنٹ پیج پر بی جےپی کی مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کرتےہوئے اپنی ہی پارٹی کے زیر اقتدار ریاست کرناٹکا کو نظر انداز کئے جانےکے متعلق رپورٹ شائع کی ہے ، جس کا ترجمہ قارئین ...

شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کی مخالفت میں بھٹکل میں مزید مظاہروں کےآثار؛ کئی ٹورنامنٹ ملتوی

ملک کا خوفناک قانون  شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)  اور این آر سی کی مخالفت  میں جہاں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں،و ہیں بھٹکل  میں بھی آنے والے دنوں میں  مزید بڑے پیمانے پر مظاہرے اور احتجاجی ریلیاں نکالے جانے کے آثار نظر آرہے ہیں۔