کانگریس کے باغی ممبر اسمبلی نئے سرے سے اسمبلی صدر کو سونپیں گے استعفے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2019, 11:25 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

ممبئی / بنگلور و، 11 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس کے مطمئن ممبران اسمبلی نے جمعرات کو کہا کہ وہ اب سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اسمبلی کے صدر کو نئے سرے سے اپنا استعفے سو نپیں گے۔ اراکین اسمبلی نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اب بھی کانگریس میں ہیں اور صرف اسمبلی کی رکنیت سے انہوں نے استعفیٰ دیا ہے۔ اراکین اسمبلی نے اس پورے معاملے میں بی جے پی کے کردار سے انکار کیا ہے۔اراکین اسمبلی نے کہا کہ:’سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہم بنگلور پہنچیں گے اوراسمبلی اسپیکر سے ملیں گے۔ بنگلور میں کے آر پورم سے کانگریس ممبر اسمبلی بی. اے  بسوراج نے ممبئی میں کہا کہ:’چونکہ سپریم کورٹ نے ہمیں نئے سرے سے استعفیٰ سونپنے کی ہدایت دی ہے، اس لیے ہم وہاں جا رہے ہیں، ہمارے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ ان استعفوں کے پیچھے بھگوا پارٹی کا ہاتھ ہے اور بی جے پی قیادت مہاراشٹر حکومت ان کی مدد کر رہی ہے۔ ان ممبران اسمبلی کے استعفیٰ سے کرناٹک میں کانگریس جے ڈی (ے) مخلوط حکومت کے وجود پر بحران کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ بسوراج نے کہا کہ الزام لگائے گئے ہیں کہ مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت ہمارے ساتھ ہے، ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نہ تو بی جے پی اور نہ ہی کوئی دوسرا حکومت ہمارے ساتھ ہے۔سپریم کورٹ نے جمعرات کو کرناٹک میں کانگریس جے ڈی (ے) اتحاد کے 10 باغی ممبران اسمبلی کو شام چھ بجے سے پہلے اسمبلی اسپیکر سے ملنے کی اجازت دے دی، تاکہ وہ استعفیٰ دینے کے اپنے فیصلے سے انہیں آگاہ کر سکیں۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والے بنچ نے کرناٹک اسمبلی کے صدر سے کہا کہ وہ آج ممبران اسمبلی کے استعفیٰ پر فیصلہ کریں اور جمعہ کو اپنے فیصلے سے عدالت کو آگاہ کرائیں۔ اگر 10 ممبران اسمبلی کے استعفیٰ قبول کر لئے جاتے ہیں تو حکمران اتحاد کے ممبران اسمبلی کی تعداد اسمبلی کے صدر کے علاوہ 106 ہو جائے گی۔ فی الحال بی جے پی کو 107 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ ریاست کی 224 رکنی اسمبلی میں اکثریت کے اعداد و شمار 113 ہے۔   
 

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک میں ایک ہی دن 6257 کورونا پوزیٹیو معاملات ، 86 اموات

کرناٹک میں کورونا وائرس کا خوفناک پھیلاؤ رکنے اور تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، ہر گزرتے لمحے اور دن کے ساتھ کورونا وائرس کے نئے معاملات میں اضافہ ہی ہوتاجار ہا ہے۔ ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا متاثرین کی تعداد تشویشناک حد تک اضافہ یکھا جارہا ہے۔ ریاست میں ایک ہی دن ...

کرناٹک: ایس ایس ایل سی سپلیمنٹری امتحانات ستمبر میں منعقد کئے جائینگے

ایس ایس ایل سی سپلیمنٹری امتحان آئندہ ماہ ستمبر میں منعقد کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور دو ایک دن میں امتحان کی تاریخ اور ٹائم ٹیبل کا اعلان کردیا جائے گا۔ یہ بات کرناٹک سکینڈری ایگزامنیشن بورڈ کی ڈائرکٹر وی سو منگلا نے کہی۔

بنگلور میں احتجاجیوں اور پولس کے درمیان زبردست جھڑپ؛ پولس فائرنگ میں دو کی موت؛ فیس بُک پر توہین آمیز پوسٹ پرعوام نے کیا تھا پولس تھانہ کا گھیراو

 فیس بُک پر مبینہ طور پر  پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے خلاف توہین آمیز مسیج پوسٹ کرنے پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے بنگلور کے جی ہلی پولس تھانہ کے باہر  جمع ہوکرایک فرقہ کے لوگوں نے جب احتجاج کیا تو یہی احتجاج بعد میں تشدد میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں بتایا جارہا ہے کہ ...

اننت کمار ہیگڈے نے لگایابی ایس این ایل میں دیش دروہی افسران موجود ہونے کا الزام

اپنے متنازعہ بیانات کے لئے پہچانے جانے والے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے الزام لگایا کہ بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کے اندر دیش دروہی افسران بیٹھے ہوئے جس کی وجہ سے اس کے کام کاج میں کوئی ترقی نہیں ہورہی ہے۔ اس لئے آئندہ دنوں میں اس کی نج کاری (پرائیویٹائزیشن) کیا جائے گا۔

بنگلور: ٹرانسفرس کے احکامات ملتوی کرانے میں مبینہ طور پر با رسوخ اساتذہ کی لابی شامل، چار سال سے ڈگری کالجوں کے لکچررس کے تبادلے نہیں ہوسکے

ریاست کرناٹک کے سرکاری فرسٹ گریڈ کالجوں میں خدمات انجام دے رہے لکچررس کے تبادلے نہیں ہوسکے ہیں، جس کے سبب انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس تعلق سے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ  چند با رسوخ لکچررس کی طرف سے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرکے تبادلوں کی کاروائی ملتوی ...

کورونا: ہندوستان میں ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار کے پار، 24 گھنٹے میں پھر 60 ہزار سے زائد کیسز درج

ہندوستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے قہرکے درمیان اس جان لیوا وبا سے شفایابی حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 56 ہزار سے زیادہ افراد کی شفایابی کے بعد اب تک تقریبا 16.40 لاکھ صحت مند ہوئے ہیں۔