جامعہ کے طلبہ پر پولیس کا تشدد اور ’وائس چانسلر کی بے بسی‘

Source: S.O. News Service | Published on 14th January 2020, 11:39 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی، 14/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن انہیں اب تک کامیابی نہیں مل سکی۔ گزشتہ پندرہ دسمبر کو دہلی پولیس کے اہلکار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں داخل ہو گئے تھے اور انہوں نے لائبریری میں پڑھنے والے طلبہ پر اندھا دھند لاٹھیاں برسائیں، انہیں بری طرح زدوکوب کیا، کھڑکیاں اورکتابوں کے شیلف توڑ ڈالے اور آنسو گیس کے شیل بھی برسائے۔ اس واقعے میں درجنوں طلبا اور طالبات زخمی ہوئے، جب کہ ایک طالب علم کی ایک آنکھ بھی ضائع ہوئی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ وہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرتشدد مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو تلاش کرتے ہوئے یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوئی تھی اور یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ پولیس کے اس دعوے کی تردید کرتی ہے، جبکہ پولیس کے پاس اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں ہے کہ لائبریری میں مطالعہ کرنے والے طلبہ کیوں مارا پیٹا گیا؟

پولیس کی زیادتی کے خلاف کارروائی کے مطالبہ پر زور دینے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے مسلسل پرامن احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں۔ گو کہ انہیں سماج کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور عوام کی بھرپور حمایت مل رہی ہے لیکن پولیس اہلکاروں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

پندرہ دسمبرکے واقعے کے بعد یونیورسٹی بند کر دی گئی تھی۔ آج جب یونیورسٹی کھلی تو ناراض طلبہ نے وائس چانسلر کے دفتر کا گھیراو کیا۔ طلبہ کے دو گھنٹے تک کے گھیراؤ اور نعرے بازی کے بعد وائس چانسلر نجمہ اختر اپنے دفتر سے باہر آئیں اور طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بے بسی کے لہجے میں کہا،”ہمارے کیمپس میں پولیس بلا اجازت داخل ہوئی تھی۔ معصوم طلبہ کو پیٹا گیا۔ پولیس ہماری ایف آئی آر بھی درج نہیں کر رہی ہے۔ ہم اس سے آگے کچھ نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم سرکاری ملازم ہیں۔ ہم نے اس سلسلے میں حکومت سے بھی شکایت کی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ہم ہائی کورٹ بھی جائیں گے۔"

جامعہ نے بعد میں ایک بیان جاری کر کے کہا،”یونیورسٹی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل کر چکی ہے۔ اس نے اپنی درخواست جامعہ نگر تھانے میں دی اور اس کی نقول دہلی کے پولیس کمشنر اور جنوب مشرقی دہلی کے ڈپٹی پولیس کمشنر کو بھی دیں۔

ناراض طلبہ نے وائس چانسلر سے کئی سوالات پوچھے۔ اس سوال پر کہ وہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت سے کب رجوع کر رہی ہیں؟ نجمہ اختر کا کہنا تھا،”آپ مجھ سے تاریخ مت پوچھیے، میں نے آپ سے کہہ دیا تو یہ ہوکر رہے گا۔ ہم کوشش ہی کر سکتے ہیں اور کوشش ہی کر رہے ہیں۔ آپ لوگ تھوڑا ٹائم دیجیے۔ ہم عدالت جائیں گے اور عدالت کی تاریخیں ہم طے نہیں کر سکتے۔"

طلبہ نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وائس چانسلر کی باتوں پر یقین نہیں ہے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ پولیس کے بجائے مظاہرے کے دوران اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے خلاف ہی مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مربی تنظیم آر ایس ایس کی مسلم ونگ 'راشٹریہ مسلم منچ‘ کے سربراہ اندریش کمار کے ساتھ وائس چانسلر نجمہ اختر کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ نجمہ اختر وائس چانسلر بننے کے بعد اندریش کمار سے ملاقات کے لیے گئی تھیں اور اندریش کمار کے سامنے سر جھکا کر آشیرواد لیتے ہوئے ان کی ایک تصویر وائرل ہو گئی تھی۔ اس کے بعد نجمہ اختر پر آر ایس ایس کے ساتھ مبینہ تعلقات کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔ اندریش کمار وہی شخص ہیں، جن کا نام سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکا معاملے میں بھی آ چکا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں کورونا انفیکشن نے پھر بنایا ریکارڈ، 24 گھنٹوں میں ملے 22,771 نئے کیس، 442 لوگوں کی موت

ملک میں کورونا وائرس روز بروز شدید شکل اختیار کرتا جارہا ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے ریکارڈ 22،771 نئے کیسز سامنے آئے ہیں ، جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 6.48 لاکھ ہوچکی ہے۔

ممبئی میں موسلا دھار بارش، 38 مقامات پر پانی بھرگیا، ٹریفک جام سے عوام کو پریشانی

گزشتہ روز صبح ممبئی میں تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی شدید بارش کے بعد کم سے کم 38 مقامات پر پانی بھرگیا، جس سے اندھیری اور سائن میں تین مقامات پر بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہوگیا اور ٹریفک کا رخ موڑنا پڑا۔

دہلی میں کورونا کے معاملات 94000سے زیادہ، 2900سے زیادہ لوگو ں کی موت

کورونا وائرس (کووڈ۔19) کا قہر رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور راجدھانی میں کل 2520نئے معاملے سامنے آنے کے بعد متاثرین کی تعداد جمعہ کو بڑھ کر 94000سے زیادہ ہوگئی ہے اور 59مزید لوگوں کی موت کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد 2923ہوگئی ہے۔

آج 16 پوزیٹیو آنے والوں میں تین دبئی سے اور آٹھ وجے واڑہ سے لوٹے لوگ شامل

بھٹکل کے آج جن 16 لوگوں کی رپورٹ کورونا  پوزیٹیو آئی ہے، اُن میں سے تین لوگ دبئی سے آئے ہوئے لوگ ہیں، آٹھ لوگ وجئے واڑہ ،  تین لوگ  اُترپردیش  اور مہاراشٹرا سے لوٹا ہوا ایک شخص بھی آج کی لسٹ میں شامل ہیں۔

کورونا اَپ ڈیٹ:جنوبی کینرامیں آج صبح سے اب تک ہوئی 2فراد کی موت۔ضلع میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہوئی 22

جنوبی کینرا میں کورونا وباء کے اثرات بہت زیادہ سنگین صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ آج صبح سے اب تک کووِڈ کے 2 مریض موت کا شکار ہوگئے ہیں جس کے بعد ضلع میں وباء کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22ہوگئی ہے۔

بھٹکل میں نجی اسپتال کی نرس کو لگ گیا کورونا کا مرض۔ایس ایس ایل سی کی طالبہ نرس کی بیٹی کو کیا گیا ہوم کوارنٹین

ایک نجی اسپتال میں خدمات انجام دینے والی نرس کو کووِڈ کا مرض لاحق ہونے کے بعدایس ایس ایل سی کا امتحان دے رہی اس کی بیٹی کو امتحان سے باز رکھتے ہوئے ہوم کوارنٹین کیا گیا ہے۔