کیا لاپتہ ماہی گیروں کی بوٹ بحری جہاز سےٹکرا گئی تھی ؟ سابق وزیرپرمود مدھوراج نے جاری کئے ٹکر مارنے والی بحری جہاز کے فوٹوز

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 3rd May 2019, 10:26 PM | ساحلی خبریں |

اُڈپی 3/مئی (ایس اونیوز) سابق مچھلی پالن کے وزیر اور اُڈپی سے کانگریس۔جے ڈی ایس مشترکہ پارلیمانی اُمیدوار پرمود مدھوراج نے جمعہ کو اپنے فیس بُک صفحہ پر ایک بڑی جہاز کے فوٹوز پوسٹ کئے ہیں   اور دعویٰ کیا ہے کہ  یہ فوٹوز   آئی این ایس کوچین (بحری جہاز) کے ہیں جس کی مرمت کی جارہی ہے۔ مدھوراج کے مطابق   ملپے سے نکلی  ہوئی بوٹ سورنا تریبھوج سے ٹکرا گئی تھی جس  کے بعد  بحری بوٹ کو شدید نقصان پہنچا تھا اس لئے اس کی مرمت کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ ضلع اُڈپی کے ملپے سے نکلی ماہی گیروں کی بوٹ گذشتہ سال 15 ڈسمبر سے لاپتہ  تھی اور کل جمعرات کی رات کو ہی اُس کا ملبہ مہاراشٹرا سے برآمد ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ البتہ متعلقہ بوٹ پر موجود سات ماہی گیروں کے تعلق سے کوئی جانکاری نہیں مل پائی ہے۔ یاد رہے کہ  سورنا تریبھوج نامی ماہی گیری کی بوٹ پر ملپے کے دو، بھٹکل کے دو، کمٹہ کے دو، اور منکی (ہوناور) کا ایک  ماہی گیر یعنی جملہ سات ماہی گیر سوار تھے۔

پرمود مدھوراج نے اپنے فیس بُک صفحہ پر لکھا ہے کہ    بحری جہاز آئی این ایس کوچین کے جو فوٹوز میں پوسٹ کررہا ہوں، یہ  جہاز سورنا تریبھوج سے ٹکرا گئی تھی جس  کے بعد اسے  شدید نقصان پہنچا تھا۔ پرمود نے آگے لکھا ہے کہ میں ساحلی علاقوں کے  ماہی گیروں   اور اُن سات لاپتہ ہونے والے ماہی گیروں کے اہل خانہ کی جانب سے  وزیراعظم سے  درخواست کرتا ہوں کہ وہ فوری جوڈیشیل  انکوائری بٹھائے۔ مزید لکھا ہے کہ ملک کی سلامتی اور سمندر میں   مچھلیوں کا شکار کرنے والے ماہی گیروں کے تحفظ کی ذمہ داری نیوی کی ہوتی  ہے مگر  نیوی نے ہی سات ماہی گیروں کو ہلاک کیا ہے اور یہ قتل کا معاملہ ہے۔

مدھوراج نے اپنے سوشیل میڈیا صفحہ  پر مزید لکھا ہے  کہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے  اُن ساتوں ماہی گیروں  کے ساتھ پیش آئے  پورے واقعے کو منظر عام پر لانے کے لئے میں ہمیشہ ہی لڑا ہوں مگر وزیر دفاع اور بی جے پی لیڈران  نے  سچائی کو چھپا کر ہمیشہ  سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ہی کوشش کی ہے۔ میں بی جے پی لیڈروں اور مرکزی حکومت  کو آواز دیتا ہوں  کہ  سچائی کو  منظر عام پر لانے کے لئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کی سربراہی میں  جوڈیشیل انکوائری بٹھائی جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کے قریب شیرور میں لاری کی ٹکر سے راہ گیر کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور میں ہوئے ایک سڑک حادثہ میں ایک راہ گیر کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت 85 سالہ تمپا اچار کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ حادثہ سنیچر کو اُس وقت پیش آیا جب عمر رسیدہ شخص تمپا آچار  بارش کی وجہ سے ہاتھ میںؓ چھتری تھامے  نیشنل ہائی وے کو کراس  کررہا تھا کہ ...

جنوری 19 کو ہوں گےانجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے انتخابات؛ اسحاق شاہ بندری الیکشن کمشنر منتخب

قومی تعلیمی ادارہ انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے عام انتخابات اگلے سال 19 جنوری کو ہوں گے جس کے لئے آج سنیچر کو  ہوئی انتظامیہ میٹنگ میں  الیکشن کمشنر کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔  اس بات کی تصدیق انجمن کے جنرل سکریٹری جناب صدیق اسماعیل نے کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  آج کی میٹنگ میں ...

پتورکے ویویکا نندا کالج میں گینگ ریپ کی واردات کے بعد طلبہ کے لئے سخت قوانین کا نفاذ۔ کلاسس معطل۔ طلبہ کے اندر اضطراب 

گزشتہ دنوں  اپنی ہم جماعت طالبہ کے ساتھ  کچھ طلبہ کی جانب سے کیے گئے گینگ ریپ کی وجہ سے سرخیوں میں آنے والے قریبی شہر پتور  کے مشہور ویویکانندا کالج میں طلبہ کے لئے نئے قوانین اور ضابطے وضع کیے گئے ہیں، جن کی پابندی کا عہد کیے بغیر کسی بھی طالب علم کوکلاس میں داخل ہونے کی اجازت ...

بھٹکل تحصیلدار آفس میں بارش کے نقصانات  سے بچنے امدادی سنٹر کی شروعات

بھٹکل تعلقہ بھر میں بہتر بارش ہورہی ہے، اس کےساتھ ساتھ موسلا دھار بارش کے نتیجےمیں اچانک کوئی حادثات بھی پیش آتے ہیں۔ ان حادثاتی مواقع پر عوام کوفوری امداد و راحت پہنچا کر  نقصانات سے بچانے کے لئے بھٹکل تحصیلدار دفتر میں امدادی مرکز (ہیلپ سنٹر) کی شروعات کی گئی ہے۔

بھٹکل میں موسلادھار بارش کاسلسلہ جاری، حنیف آباد کی سڑک تالاب میں تبدیل؛ کئی مکانوں میں پانی داخل ہونے کی شکایتوں کے بعدتحصیلدار کا دورہ

گزشتہ دو دنوں سے برس رہی بارش کے نتیجےمیں تعلقہ کے ہیبلے گرام پنچایت حدود کے حنیف آباد کی سڑک تالاب نما کی شکل اختیارکرنےکے علاوہ سڑک کا پانی پاس پڑوس کے گھروں میں پانی گھسنے سے عوام پریشانی میں مبتلا دیکھے گئے۔

اترکنڑا ضلع پنچایت کو 5.97کروڑروپئے کی امداد : آبادی اور جغرافیائی وسعت کے مطابق امداد کی منظوری کا فیصلہ

فورتھ فائنانس کمیشن کی سفارشات کے تحت سال 2019-2020کے لئے ضلع پنچایتوں کی امداد میں اضافہ کیاگیا ہے۔ جس کےمطابق ریاستی حکومت نے بیلگام ضلع کو 8کروڑرو پئے منظور ہوئے ہیں تو اترکنڑا ضلع کے لئے 5.74کروڑ روپئے کی امداد منظور کی ہے۔