کیسا ہوگا سن 2022!۔۔۔۔۔۔ از: ظفر آغا

Source: S.O. News Service | Published on 2nd January 2022, 12:38 PM | اسپیشل رپورٹس |

آپ کو نئے سال کی مبارکباد! حالانکہ مجھے یہ نہیں پتہ کہ سن 2022 آپ کے لیے خوشیاں لائے گا یا سن 2021 کی طرح نئی مصیبتیں بکھیرے گا۔ آثار کچھ پچھلے برس جیسے ہی نظر آ رہے ہیں۔ سن 2021 کی جنوری میں کووڈ کی دوسری لہر شروع ہو چکی تھی۔ اس پہلی جنوری کی صبح اومیکرون کی لہر ہندوستان پر منڈلا رہی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں لاکھوں لوگ ایک ایک دن میں اس وبا کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر ہندوستان جیسے کثیر آبادی والے ملک میں ایک دن میں لاکھوں افراد اس وبا کے شکار ہوئے تو اسپتالوں کا کیا عالم ہوگا اس کا اندازہ بیت چکے برس کے حالات سے لگایا جا سکتا ہے۔ دو ٹوک بات یہ ہے کہ اس سال بھی حکومت سے کوئی توقع مت رکھیے اور اپنا بچاؤ خود کیجیے۔ اگر ٹیکہ نہیں لگا ہے تو جلد سے جلد ٹیکہ اپنی کوششوں سے خود لگوا لیجیے۔ بڑے شہروں میں حالات لاک ڈاؤن جیسے ہو چکے ہیں۔ اس کا انتظار مت کیجیے کہ باقاعدہ لاک ڈاؤن کا اعلان کب ہوگا۔ گھر-دیہات جانا ہو تو جلد از جلد کوچ کر دیجیے ورنہ ہزاروں میل پیدل چلنا پڑ سکتا ہے۔ نوکری کاروبار تو خطرے میں ہے ہی۔ الغرض صحت کے محاذ پر سن 2022 پچھلے برس جیسا ہی لگ رہا ہے۔ خدا کرے کہ ہم اور آپ کسی طرح سن 2023 کی جنوری دیکھنے کو زندہ رہیں۔

سیاست کے میدان میں سن 2022 کی صبح مسلمانوں کے لیے نسل کشی کی نوید لے کر آئی ہے۔ سَنگھ سے تعلق رکھنے والی سادھوؤں کی تنظیم کے دھرم سنسد نے ملک میں مسلم نسل کشی کی کال دے دی ہے۔ مودی جی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو اس وقت سن 2002 میں وہاں 2000 سے زیادہ لوگ نسل کشی کا شکار ہوئے تھے۔ حالانکہ سپریم کورٹ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ مودی جی کا گجرات فسادات سے کچھ لینا دینا تھا۔ بہر حال ان کے راج میں ہی باقاعدہ نسل کشی کا رواج گجرات میں قائم ہوا۔ اب جب وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں تو ان کی ذمہ داری کے بغیر سارے ملک میں مسلم نسل کشی بپا ہو جائے تو بہت حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ فرقہ وارانہ نفرت ملک میں عروج پر ہے اور ان حالات میں کل کو کیا ہو جائے کہنا مشکل ہے۔ لب و لباب یہ کہ اگر سن 2021 میں مسلمان ماب لنچنگ جھیل رہا تھا تو سن 2022 میں اس کے سر پر نسل کشی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ جمعہ کی نماز گڑگاؤں میں خطرے میں پڑ ہی چکی ہے۔ آگے آگے یہ سال نو اور کیا کیا پریشانیاں لاتا ہے یہ نیا سال رفتہ رفتہ آپ کو بتا ہی دے گا۔ میں بس یہی رائے دے سکتا ہوں کہ جس صبر و شکر کے ساتھ ہندوستانی مسلمان نے مودی راج اب تک کاٹا ہے، بس اسی صبر کے ساتھ اس مشکل دور کو آگے بھی کاٹ دیجیے۔ مولویوں اور جذباتی قیادت کی سڑکوں کی سیاست سے بالکل دور رہیے۔ اللہ بڑا کارساز ہے۔ تاریخ میں قوموں پر ایسے مشکل وقت آتے ہیں۔ لیکن ایسے دور بھی کٹ ہی جاتے ہیں۔ بس صبر ہی میں اس وقت بقا ہے۔ یہ سال بھی صبر و شکر سے کاٹ دیجیے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ صبر کی رسی دراز کرے اور سن 2022 میں ہم سب کی مشکلیں حل ہونے کا راستہ نکل آئے۔

گھبرائیے مت! اس ملک کا مسلمان ہی مشکل میں نہیں ہے۔ سَنگھ کے ہندو راشٹر میں اس ملک کی کثیر ہندو آبادی بھی سخت پریشانیوں کا شکار ہے۔ سب واقف ہیں کہ پچھلے دو لاک ڈاؤن کے دوران ملک کی معیشت تباہ ہو گئی۔ نوٹ بندی نے پہلے ہی ملک کے مالی حالات بگاڑ دیے تھے۔ جب ملک کی معیشت کی بات ہوتی ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا تعلق ہندو سے ہی ہوتا ہے۔ مسلمان کا تو معیشت سے کچھ لینا دینا ہے نہیں۔ نہ اس کے پاس روزگار ہے، اور نہ ہی کوئی مکیش امبانی جیسے کاروباری افراد۔ وہ تو ریڑی-پٹری پر سودا سلف بیچ کر اور چھوٹا موٹا کاروبار چلا کر گزر بسر کر لیتا ہے۔ اگر غلطی سے اپنی صلاحیتوں سے کوئی شاہ رخ خان پیدا ہو جاتا ہے تو اس کو سبق سکھا کر بتا دیا جاتا ہے کہ اپنی اوقات میں رہو۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشی بدحالی نے سب سے زیادہ نقصان ہندوؤں کو پہنچایا۔ نوکریوں سے کروڑوں ہندو نوجوان باہر ہو گئے اور ابھی بھی نوکری کی تلاش میں جوتیاں چٹکھا رہے ہیں۔ کاروبار بھی سب سے زیادہ مناسبت کے اعتبار سے ہندوؤں کے ہی بند ہوئے۔ یعنی مودی حکومت میں ہندو بھی خوش نہیں۔

سن 2022 کی جنوری کی صبح یہ بات اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ ہندو راشٹر کی تعبیر خود ہندوؤں کے حق میں کوئی بہت خوش آئند ثابت نہیں ہوئی۔ مذہب کی سیاست تباہی کا پیش خیمہ ہی ثابت ہوتی ہے۔ ہم ہندوستانیوں نے پاکستان سے سبق نہیں سیکھا۔ اب خود اس افیون سے گریز کریں ورنہ سخت خسارے میں رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ عوام تو کسی بھی ملک میں خود اپنا راستہ طے نہیں کرتے ہیں۔ یہ کام قیادت کا ہوتا ہے۔ یعنی یہ ذمہ داری ملک کی سیکولر اپوزیشن پارٹیوں کی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وہاں بھی سن 2021 کی طرح سن 2022 کی صبح بھی اپنی اس اہم ذمہ داری کا احساس نہیں نظر آ رہا ہے۔ لگتا ہے سب محض اقتدار کی دوڑ میں ہیں۔ کسی کے پاس کوئی بڑا وژن نہیں۔ ہاں کبھی کبھی راہل گاندھی اور سونیا گاندھی ملک کو مذہب کی سیاست کے خطرے سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن کانگریس بھی ابھی تک کوئی بڑا ایکشن پلان نہیں پیش کر سکی ہے۔ اور یہ ملک کا المیہ ہے۔

لب و لباب یہ کہ سن 2022 میں ملک کو ایک نئے گاندھی اور نہرو کی ضرورت ہے جو سن 1947 کی طرح بٹوارے کی سیاست کے خطرے سے عوام کو بہرہ ور کروا سکے۔ افسوس یہ کہ کوئی گاندھی یا نہرو ملک میں کہیں نظر نہیں آتا۔ ان حالات میں سن 2022 کتنی خوشیاں لائے گا، اس کا اندازہ آپ لگا ہی سکتے ہیں۔ بس صبر سے کام لیجیے اور اللہ پر بھروسہ رکھیے۔ ہماری امید اور دعا یہی ہے کہ جلد کوئی راستہ نکلے اور مشکلیں حل ہوں۔

ایک نظر اس پر بھی

مندر-مسجد کرنے والے نفرت پھیلانے کے لیے تاریخ کا غلط استعمال کر رہے۔۔۔۔۔۔۔ از: بھرت ڈوگرا

ہندوستان میں مندر-مسجد تنازعہ بھڑکانے والوں اور فرقہ واریت کی تشہیر کرنے والوں سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ آپ تاریخ کی ان کئی سچائیوں کے بارے میں کیوں خاموش ہو جاتے ہیں، جن سے بھائی چارے اور صبر کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ کیا یہ لوگ تاریخ کا مطالعہ صرف نفرت پھیلانے کی مثالیں تلاش ...

گیان واپی مسجد، شاہی عیدگاہ اور میڈیا کی فرقہ واریت۔۔۔۔۔۔۔از: سہیل انجم

فرقہ واریت کا زہر اب رفتہ رفتہ پورے ملک میں سرائت کرتا جا رہا ہے۔ اب تو تعلیم یافتہ افراد بھی واٹس ایپ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے لگے ہیں۔ صورت حال اتنی خطرناک ہو چکی ہے کہ ذہنی طور پر معذور ایک شخص کو محض اس لیے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے کہ اس پر مسلمان ہونے کا شبہ ہے ...

بس اللہ ہی بچائے کاشی اور متھرا مساجد۔۔۔۔ از: ظفر آغا

پھر وہی مندر مسجد قضیہ، پھر وہی ہندو مسلم تکرار، کیونکہ راقم الحروف نے سن 1986 میں بابری مسجد کا تالا کھولنے کے بعد سے سن 1992 میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے تک پورے معاملات بطور ایک صحافی اتنے قریب سے دیکھے اور رپورٹ کئے کہ اب گیان واپی مسجد وارانسی اور متھرا عید گاہ کے سلسلہ میں جو ...

اُدے پور سے کانگریس کے نئے سفر کا آغاز ۔۔۔۔۔ از:ظفر آغا

آخر کانگریس پارٹی نے اُدے پور کے سفر کے لئے کمر باندھ لی۔ دیر آئے درست آئے۔ یہ سفر بہت پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ کانگریس کو خود اپنے مسائل حل کرنے کے لئے اس قسم کے کیمپ کی بہت سخت ضرورت ہے۔ جب جب کانگریس مشکل حالات میں پھنسی ہے تب تب کانگریس نے ایسے کیمپ منعقد کر کے پارٹی ...

بھٹکل : شرالی پروگرام میں سوامی برہمانند کی تقریر کا خلاصہ - ریاستی سیاست کا شدھی کرن کرنے کے لئے سادھو سنت اتریں گے میدان میں ۔ رام راجیہ لانے کے لئے لڑیں گے انتخابات 

"مذہبی عقیدت و احترام کے مراکز لوگوں کے اندر تحریک و ترغیب پیدا کرنے کا سبب بننے چاہئیں ۔آج راجاوں کا دور نہیں رہا ہے ۔ اب ہم کاگیری (اسمبلی کے اسپیکر) یا کسی رکن اسمبلی کو راجا مانتے ہیں ۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنی پرجا کی دیکھ بھال اپنی اولاد کی طرح کریں ۔