ٹیم انڈیا کے مایہ ناز کھلاڑی کے قریبی دوست نے کہا "عالمی کپ 2019 کھیلنا دھونی کا خواب"۔

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 18th November 2018, 2:18 PM | اسپورٹس |

دہلی ١۸ نومبر ﴿ایجنسی/ایس او نیوز﴾مہندر سنگھ دھونی ٹیم انڈیا کی کپتانی چھوڑنے کے بعد سے ایک کھلاڑی کے ساتھ ساتھ وراٹ کوہلی کی کپتانی والی ٹیم میں مینٹرکے طورپرکھیل رہے ہیں۔ 2018 دھونی کے لئے بین الاقوامی کرکٹ میں کچھ خاص نہیں رہا ہے۔ انہوں نے اپنی آخری نصف سنچری ایک سال قبل سری لنکا کے خلاف لگائی تھی اوروہ تب سے مسلسل جدوجہد کرتے نظرآرہے ہیں۔

ان کی خراب کارکردگی کے سبب ہی انہیں ویسٹ انڈیزاورآسٹریلیا کے خلاف مسلسل ٹی -20 سیریز میں ٹیم میں جگہ نہیں دی گئی۔ بہرحال اس کے باوجود قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ دھونی ضرورعالمی کپ 2019 میں ٹیم انڈیا کا حصہ ہوں گے۔

اسی درمیان دھونی کے قریبی دوست اورمنیجرارون پانڈے کا کہنا ہے کہ دھونی 2019 عالمی کپ کھیلنے کے لئے پوری طرح سے تیارہیں۔ پانڈے نے گلف نیوزسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "جب سے دھونی نے کپتانی چھوڑی ہے، تب سے ان کا خواب عالمی کپ کھیلنا رہا ہے"۔

اس عالمی کپ میں وہ ٹیم انڈیا کے مینٹرکے طورپرکھیلیں گے۔ یہ ان کا آئیڈیا تھا کہ کوہلی کو کپتانی کرنے کا موقع دیا جائے اوران کی سوچ بالکل نہیں بدلی ہے۔ دھونی نے 2014 آسٹریلیا دورے کے بعد ہندوستان کی ٹسٹ ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دو سال بعد انہوں نے کوہلی کو تینوں فارمیٹ کی ذمہ داری سونپ دی تھی۔

دھونی کے ونڈے بلے باز کے طورپرٹیم میں بنے رہنے کولے کر مسلسل بحث چل رہی ہے۔ حال فی الحال میں ان کا کپتان، کوچ اورچیف سلیکٹرنے بچاو کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ وہ وکٹوں کے پیچھے بہترہوتے جارہے ہیں، لیکن بلے باز کے طورپردھونی کہیں کھوتے جارہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

اترکنڑا ڈسٹرکٹ فٹ بال اسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ فٹ بال لیگ ٹورنامنٹ میں بھٹکل کی بیفا ٹیم چمپئین

اترکنڑا ڈسٹرکٹ فٹ بال اسوسی ایشن نے کرناٹکا اسٹیٹ فٹ بال اسوسی ایشن کے اشتراک سے سرسی اور بیندور میں سالانہ فٹ بال لیگ چمپئین شپ 2020کا انعقاد کیا تھا ۔ 16فروری سے 23فروری تک منعقد ہوئے فٹ بال ٹورنامنٹ میں بھٹکل فٹ بال کلب نے چمپئین شپ کا خطاب جیتا۔

دو تین سالوں تک اسی صلاحیت کے ساتھ کھیل سکتا ہوں: وراٹ کوہلی

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کا خیال ہے کہ مصروف شیڈول کے درمیان باقاعدہ آرام کرنے سے انہیں بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس کے علاوہ آئی پی ایل کھیلنے میں بھی مدد ملی ہے اور وہ اگلے دو تین سال تک اسی صلاحیت کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔