بھٹکل میں کورونا وائرس کو لے کر کیاسوشیل میڈیا میں کسی طرح کی سازش رچی جارہی ہے ؟ مسلمانوں سے دور رہنے اورکسی بھی طرح کا لین دین نہ رکھنے کے مسیجس وائرل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 7th April 2020, 10:28 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 7/اپریل (ایس او نیوز) ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء فسطائی اور فرقہ وارانہ ذہنیت والے غیر مسلموں کے لئے مسلمانوں کے خلاف اپنی بھڑاس نکالنے کا نیا ہتھیار بن گئی ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں سے دوری رکھنے کی تلقین کی جارہی ہے  اور مسلمانوں سے کسی بھی طرح کی خریداری کرنے کی مخالفت میں کنڑا زبان میں سوشیل میڈیا پر وائس مسیجس وائرل ہورہے ہیں وہیں  بعض مقامات پر گاؤں میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کے پوسٹرس اور بیانرس لگنے کی باتیں سننے اور دیکھنے کو مل رہی ہیں۔کورونا کو لے کر بعض جگہوں پر مسلمانوں پر حملے کی وڈیو کلپ  وائرل ہورہی ہے تو وہیں سوشیل میڈیا میں کورونا  وائرس کو لے کر کنڑا زبان میں ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ  مسلمانوں کے ذریعے ہی  کورونا وائرس  پھیل رہا ہے، لہٰذا  مسلمانوں سے دوریاں بنائی جائیں اور اُن سے کسی طرح کا لین دین نہ رکھیں۔

کنڑا زبان میں وائرل ہونے والے وائس مسیجس میں  کہا جارہا ہے کہ اگر کوئی مسلمان بالکل کم قیمت پر بھی کوئی چیز  بیچ رہا ہو تو بھی اُن سے خریداری نہ کی جائے، بعض مسیجس میں  مسلمانوں کی طرف سے دی جارہی  امداد کوبھی قبول نہ کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔کسی نے سوشیل میڈیا میں یہاں تک کہہ ڈالا ہے کہ یہ دراصل کورونا جہاد ہے۔ 

کچھ شرپسند عناصر مسلمانوں کے خلاف بغض اور دشمنی پھیلانے کے لئے سوشیل میڈیا کا  جس ڈھڑلے سے استعمال کررہے ہیں   اور قانون کے رکھوالوں کی توجہ  اس طرف دلانے کے باوجود   بھی وہ ایسے مسیجس پر خاموش  نظر آرہے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ان مسیجس کے پیچھے کوئی بہت بڑا ہاتھ ہے اورکورونا کی آڑ میں ملک بھر میں کوئی بہت بڑی سازش رچی جارہی ہے  جس کی وجہ سے انتظامیہ بھی  ایسے مسیجس کے خلاف معاملات درج کرنے سے  کترا رہے ہیں۔ 

غلط اور بے بنیاد مسیجس  جس تیزی کےساتھ  وائرل ہورہے ہیں، اس کے اثرات بھی  بالخصوص بھٹکل میں نظر آنے لگے  ہیں، معصوم اور غریب     عوام  ان مسیجس کے  جھانسے میں آکر  مسلمانوں کے قریب آنے میں خوف کھارہے ہیں، گھروں میں تازہ دودھ سپلائی  کرنے والوں نے دودھ سپلائی کرنا بند کردیا ہے۔ ترکاری لے کر جو لوگ گھروں کے پاس آتے ہیں، ترکاری کو ہاتھ میں دینے کے بجائے گھر کے ایک حصے پر رکھ کر ایسے پیچھے ہٹ جاتے ہیں جیسے اُن میں کورونا منتقل ہونے کا خطرہ ہو۔ دکانوں میں کام کرنے والے ملازمین  دکانوں میں مسلمانوں کے ساتھ کام کرنے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

 بھٹکل میں کورونا کو لے کر بعض شرپسند عناصر  جس طرح کی فضا بنانے میں مصروف ہیں، اگر اس سلسلے پر فوری قابو نہیں پایا گیا تو  اس کے سنگین اثرات رونما ہونے کے امکانات صاف نظر آرہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا سے اُڈپی میں مرنے والوں کی تعداد ہوگئی 6؛ بھٹکل میں بھی ایک شخص کی موت

جمعرات کو اُڈپی میں مزید ایک شخص کی کورونا سے موت واقع ہونے کے بعد ضلع میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی ہے۔ اسی طرح بدھ کی شب کو بھٹکل میں بھی ایک شخص کی موت واقع ہونے کی خبر  موصول ہوئی ہے جس کی رپورٹ آج جمعرات کو کورونا پوزیٹیو آنے کی اطلاع ملی ہے۔اس طرح بھٹکل ...

مینگلور : دکشن کنڑا میں ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے لاک ڈاون کا آج سے ہوا نفاذ، راستے سنسان، دکانیں بند، عام زندگی مفلوج

کورونا کے بڑھتے معاملات اور روز بروز اضافہ کو دیکھتے ہوئے  ایک ہفتہ طویل لاک ڈاون کا آج  سے مینگلور سمیت دکشن کنڑا ضلع میں نفاذ عمل میں آیا جس کے دوران شہر کی سڑکیں سنسان اور بہت زیادہ چہل پہل والے علاقوں میں بھی سناٹا نظر آیا۔ 

بنگلورکے ساتھ ساتھ ساحلی کرناٹکا میں کورونا کا قہر جاری؛ اُترکنڑا میں 76 معاملات؛ بھٹکل میں پھر ایک شخص کی موت

ریاست کرناٹک بالخصوص بنگلور میں کورونا کا قہر جاری ہے مگر ساحلی کرناٹکا میں بھی کورونا کے معاملات رُکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، ایک طرف آج ضلع اُترکنڑا میں کورونا کے 76 معاملات سامنے آئے تو وہیں پڑوسی ضلع اُڈپی میں 52 اور دکشن کنڑا میں 76 پوزیٹیو کیسس کی تصدیق ہوئی ہے۔