نئی دہلی، 6 نومبر (ایس او نیوز): دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں چھ سال سے زائد عرصے سے جیل میں بند طالب علم رہنما عمر خالد اور شرجیل امام نے ضمانت کے حصول کے لیے ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ دونوں نے دہلی ہائی کورٹ کے ضمانت مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے طویل حراست اور مقدمے کی سست رفتار کارروائی کو اپنی درخواست کی بنیاد بنایا ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ مقدمے میں 900 سے زائد گواہ نامزد ہیں، جن میں 47 محفوظ گواہ بھی شامل ہیں، لیکن تقریباً چھ سال گزرنے کے باوجود اب تک کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جاسکا ہے۔ ان کے مطابق ٹرائل شروع ہونے میں غیر معمولی تاخیر کے باعث انہیں غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھنا آئین کی دفعہ 21 کے تحت حاصل شخصی آزادی کے حق کے منافی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 5 جنوری 2026 کو عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کردی تھی، جبکہ اسی مقدمے میں پانچ دیگر ملزمین کو ضمانت دے دی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں دونوں کو ایک سال بعد یا محفوظ گواہوں کی گواہی مکمل ہونے پر، جو بھی پہلے ہو، دوبارہ ضمانت کی درخواست دینے کی اجازت دی تھی۔
اس کے بعد ٹرائل کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ سے بھی انہیں راحت نہیں ملی۔ ہائی کورٹ نے 30 ستمبر کو ان کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کو بنیاد بنایا تھا۔
فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں مبینہ بڑی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر افراد کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ دونوں ملزمین اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔