ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / برہماور کے اجلاس میں پروفیسر پھنی راج نے کہا : ساحلی اضلاع بن گئے سنگھ پریوار کے لئے فرقہ وارانہ تشدد کی انڈسٹری

برہماور کے اجلاس میں پروفیسر پھنی راج نے کہا : ساحلی اضلاع بن گئے سنگھ پریوار کے لئے فرقہ وارانہ تشدد کی انڈسٹری

Mon, 07 Jul 2025 18:16:57    S O News

برہماور، 7 / جولائی (ایس او نیوز) برہماور میں مختلف تنظیموں کی جانب سے منعقدہ باہمی بھائی چارگی کے ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے سینئر دانشور پروفیسر پھنی راج نے کہا کہ ساحلی اضلاع سنگھ پریوار اور بی جے پی کے لئے ایک طرف ہندوتوا کی لیباریٹری ہے تو دوسری طرف مسلسل فرقہ وارانہ وارداتیں انجام دینے کے لئے ایک انڈسٹری بن گئے ہیں ۔ وہ اس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اس سے منافع  حاصل کرنے کے انتظار میں بھی رہتے ہیں ۔
    
آپسی ہم آہنگی اور بھائی چارگی کو فروغ دینے کی سمت میں ایک کوشش کے طور پر یہ پروگرام اڈپی بلاک کانگریس کمیٹی، برہماور بلاک کانگریس کمیٹی، بقائے باہمی اور انسانی بھائی چارہ اڈپی ژون اور دیگر ہم خیال تنظیموں کی جانب  سے شہر کے  نیلاور میں منعقد کیا گیا تھا ۔
    
پروفیسر پھنی راج نے کہا کہ سماج میں اشتعال پیدا کرتے ہوئے فرقہ وارانہ آتش فشاں تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اڈپی ضلع میں یہ سلسلہ سال 2000 سے چل پڑا ہے ۔ یہی لوگ حملہ کرتے ہیں اور یہی لوگ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرتے ہیں ۔ سنگھ پریوار والے پسماندہ طبقات کے نوجوان کو تشدد کے لئے آگے بڑھاتے ہیں اور انہیں جیلوں میں قید ہونے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں ۔ پھر انہیں اور ان کے گھر والوں کو پیسہ دیا جاتا ہے اور ان کا مقدمہ لڑنے کے لئے وکیلوں کا بندوبست کیا جاتا ہے ۔ اس طرح سنگھ پریوار کے لئے یہ فرقہ وارانہ تشدد ایک کاروبار اور انڈسٹری بن گیا ہے ۔ 
    
انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد کی وارداتیں ہونے پر ہماری طرف سے صرف بھائی چارگی کی باتیں کرنا کافی نہیں ہے ۔ پچھڑے اور پسماندہ  طبقات کے نوجوانوں کو اس طرف جانے سے روکنے کا کام ہونا چاہیے ۔ ان میں سے بہت سارے لوگ تعلیم اور زندگی کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اس طرف جاتے ہیں ۔ ایسی صورت میں ان کے محلوں اور گلیوں میں جا کر ان کی حالت کے بارے میں جانکاری حاصل کرنی چاہیے ۔ اسی صورت میں سنگھ پریوار کی فرقہ وارانہ تشدد کی انڈسٹری پر روک لگانا ممکن ہو سکے گا ۔
    
بھائی چارگی ایک سماجی سیاست ہے ۔ کانگریس پارٹی  بہت پہلے سے اس پر عمل کرتی آئی ہے ۔ اگر اسے بھولیں گے تو سنگھ پریوار کے ساورکر اور گول والکر کی سیاست اس بھائی چارگی کو اپناتے ہوئے تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی اسے تباہ و برباد کر رہی ہے ۔ اس کے خلاف صرف بھاشن دینے سے کام نہِیں چلے گا بلکہ اس کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔  
    
اس موقع پر بولتے ہوئے دانشور ایم جی ہیگڑے نے کہا کہ اسکولوں کے سالانہ جلسوں، ثقافتی پروگراموں اور مندروں کے اجلاس میں بھی نفرت انگیز خطاب کرنا عام بات ہوگئی ہے ۔ حقیقی معنوں میں مذہب پر عمل کرنے والوں کو کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کو دیکھنے سے کیوں کر تکلیف ہوسکتی ہے ؟  دھرم کے مطلب سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے ایسی ہندو تحریکیں پیدا ہوتی ہیں ۔ 
    
پروگرام کی صدارت سابق وزیر جئے پرکاش ہیگڑے نے انجام دی ۔ اس موقع پر  دلت سنگھرش سمیتی کے لیڈر شیام راج بیرتی، سندر ماستر، اسیٹیون وکٹر لوئیس، مولانا محمد رشید کننگار، کانگریسی لیڈر پرساد راج کانچن، ایم ایم غفور، اشوک کمار کوڈوور، راگھویندرا شیٹی کرجے، جیوتی ہیبار، شرف الدین شیخ وغیرہ اسٹیج پر موجود تھے ۔


Share: