اڈپی، 6 / جولائی (ایس او نیوز) اُڈپی ضلع نے امسال جون کے مہینے کے دوران ملک میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ قائم کرتے ہوئے میگھالیہ کے چیراپونجی اور کرناٹک کے آگمبے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے - خیال رہے کہ یہ دونوں مقامات ملک میں بھاری بارش کے لیے مشہور ہیں ۔
انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) کے مطابق اڈپی میں حالیہ مانسون کے دوران ہونے والی بارش ضلع کے لیے اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے ۔
جون کے مہینے میں بارش کے اعداد وشمار کے مطابق صرف ایک مہینے میں 1,140 ملی میٹر بارش کے ساتھ اڈپی ضلع ملک میں سرفہرست آگیا ہے ۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 4,300 ملی میٹر سالانہ اوسط بارش کے ساتھ امسال اُڈپی کے لیے ایک نیا ریکارڈ قائم کرنے کا امکان ہے ۔
گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصے سے ساحلی ضلع میں شدید اور مسلسل بارش ہو رہی ہے ۔ آئی ایم ڈی کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس سال ضلع میں گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ بارشیں ہوئی ہیں ۔ 27 جون تک اڈوپی ملک کے سب سے زیادہ برسات والے ضلع کے طور پر ابھرا ہے ۔
شمالی ہند میں چیراپونجی، جو طویل عرصے سے ہندوستان میں سب سے زیادہ برسات والی جگہ کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اور جنوبی ہند میں آگمبے، جسے اکثر 'جنوب کا چیراپونجی' کہا جاتا ہے، دونوں ہی مقامات کو امسال اڈپی سے پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔
اڈ پی ضلع مغربی گھاٹ سے متصل تین تعلقہ جات اور ساحلی پٹی پر واقع پانچ تعلقہ جات پر مشتمل ہے، جو مانسون کی بھاری بارشوں کے لیے مثالی حالات پیدا کرتے ہیں ۔
جون کے مہینے میں لگاتار تین دن تک اُڈپی میں روزانہ 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی - یہ ایک غیر معمولی اور اہم واقعہ ہے ۔ 15 مئی سے پری مانسون بارشوں کے بعد طوفانی صورتحال شدید بارشوں کا باعث بنی جو بغیر کسی رکاوٹ کے پورے مانسون کے عرصے میں تبدیل ہوگئی ۔
جون کے مہینے میں تمام علاقوں میں بارش کا موازنہ:
• اڈپی (کرناٹک) : 1,140 ملی میٹر
• دکشن کنڑا (کرناٹک) : 980 ملی میٹر
• کنور (کیرالہ) : 902 ملی میٹر
• جنوب مغربی کھاسی پہاڑیاں (میگھالیہ) : 880 ملی میٹر
• دادرہ اور نگر حویلی : 858 ملی میٹر
یاد رہے کہ اُڈپی ضلع پچھلے چھ ہفتوں میں مسلسل موسلا دھار بارش کی وجہ سے 15 دنوں سے ریڈ الرٹ کے تحت تھا ۔ کئی دنوں کے لیے آرینج اور ایلو الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا ۔ اس کے نتیجے میں دریا اور ساحلی علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی اور ماہی گیری کا کام تقریباً ایک ماہ تک معطل رہا ۔
امسال اڈپی میں ہوئی غیر معمولی بارش نے ملک کی مانسون کی تاریخ میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے اور اس نے ضلع کے موسم میں بدلتے انداز اور اس سے متعلق سخت تیاری کی ضرورت پر توجہ مبذول کرائی ہے ۔