ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بیلگاوی : مسلم ہیڈ ماسٹر کا تبادلہ کرنے کے لئے اسکول کے پانی میں ملا دیا گیا زہر؛ تین گرفتار

بیلگاوی : مسلم ہیڈ ماسٹر کا تبادلہ کرنے کے لئے اسکول کے پانی میں ملا دیا گیا زہر؛ تین گرفتار

Sun, 03 Aug 2025 16:59:28    S O News
بیلگاوی : مسلم ہیڈ ماسٹر کا تبادلہ کرنے  کے لئے  اسکول کے پانی میں ملا دیا گیا زہر؛ تین گرفتار

بیلگاوی ،3 / اگست (ایس او نیوز) بیلگاوی میں سودتّی تعلقہ کے ہولی کٹی میں ایک مسلم ہیڈ ماسٹر کا تبادلہ کروانے کی سازش کے طور پر گاوں کے تین افراد نے سرکاری اسکول میں استعمال ہونے والی پانی کی ٹنکی میں زہر ملا دیا جس کے بعد کئی بچے بیمار ہوگئے اور انہیں اسپتال میں بھرتی کروانا پڑا ۔
    
پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بھیما شنکر گلید کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ واقعہ 13 جولائی کو پیش آیا جب ہولی کٹی کے سرکاری ہائیر پرائمری اسکول میں گزشتہ 13 سال سے خدمات انجام دے رہے ہیڈ ماسٹر سلیمان گورینائیک کو پھنسانے اور اس کا تبادلہ کروانے کے مقصد سے اسی گاوں کے رہنے والے ساگر پاٹل نے ایک سازش رچی ۔ اس کی وجہ بس یہی تھی کہ ہیڈ ماسٹر ایک مسلمان شخص تھا اور ایک طویل عرصے سے ایک ہی اسکول میں خدمات انجام دے رہا تھا ۔ مبینہ طور پر ساگر پاٹل ہندوتوا وادی تنظیم سری رام سینا کے کارکنان میں شامل ہے ۔ وہ مسلم ہیڈماسٹر کو اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کے الزام میں پھنسا کر فرقہ وارانہ تناو پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
    
ساگر پاٹل نے ایک اور شخص کرشنا مادر کو دوسری ذات والی خاتون کے ساتھ اس کے تعلقات کا بھانڈا پھوڑنے کی دھمکی دے کر اپنے ساتھ سازش میں شامل کر لیا ۔ پھر کرشنا اور اس کے ایک اور ساتھی ناگنا گوڑا نے مبینہ طور پر موناولی گاوں سے کیڑے مار دوا (پیسٹی سائڈ) حاصل کی ۔
    
ان تینوں نے اس کیڑے مار دوا کو ہلکے مشروب (سافٹ ڈرنک) میں ملایا اور ایک کم عمر طالب علم کو پانچ سو روپے کے چاکلیٹ اور سنیکس کی رشوت دے کر اس کیڑے مار دوا ملے ہوئے مشروب کو اسکول کی ٹنکی والے پانی میں ملانے کے لئے تیار کر لیا ۔ 
    
اس طرح زہر آلود پانی پینے کی وجہ سے 14 جولائی کو اسکول میں زیر تعلیم 41 طلبہ میں سے 12 طالب علم بیمار پڑ گئے ۔ ان میں سے گیارہ طالب علموں کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا ۔ اس واقعہ سے پورے علاقے میں اور خاص کرکے اسکول کے اساتذہ اور طلبہ کے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ اسپتال میں علاج کے بعد تمام طلبہ اب صحت یاب ہوگئے ہیں ۔ 
    
پولیس سپرنٹنڈنٹ گلید نے تصدیق کی ہے کہ ساگر پاٹل، کرشنا مادر اور ناگنا گوڑا پاٹل نامی تینون ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اس تعلق سے سودتّی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے ۔  
    
محکمہ تعلیم کے افسران، بچوں کے حقوق کے ایکٹویسٹ اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں نے اس واقعہ کی کڑی مذمت کرتے ہوئے اسکول کے ماحول میں فرقہ واریت پھیلانے اور چھوٹے بچوں کا اس طرح کی گھناونی حرکتوں میں استعمال کرنے والے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔


Share: