نئی دہلی، 23/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) حکومت کی جانب سے مقررہ وقت کی حد مکمل ہونے کے بعد 22 جون کی نصف رات کو گوگل نے ٹیلیگرام کو بحال کر دیا۔ کچھ موجودہ صارفین کے لیے پلیٹ فارم پہلے سے ہی محدود طور پر دستیاب تھا، لیکن آفیشیل طور پر اسے منگل کی صبح پھر سے ایکسیس کیا جا سکا۔ حالانکہ ایپل ایپ اسٹور پر صبح تقریباً 10 بجے تک ڈی لسٹ رہا۔ اس سلسلے میں ایپل کی جانب سے فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے 16 جون 2026 کو ٹیلیگرام پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ فیصلہ نیٹ امتحان سے جڑے فرضی سوالناموں، گمراہ کن معلومات اور امتحانی عمل کو متاثر کرنے والی مبینہ دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہنے کے بعد لیا گیا تھا۔ سرکاری افسران نے 3 جون کو ٹیلیگرام کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کر ان خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے ایپ، ویب ورژن اور اس سے منسلک لنک کو 22 جون تک بلاک کرنے کا حکم دیا۔
حالانکہ ٹیلیگرام کو ابھی پوری طرح راحت نہیں ملی ہے۔ اس کے میسج ایڈیٹنگ فیچر پر اب بھی روک جاری ہے۔ حکومت نے ٹیلیگرام کو ہدایت دی ہے کہ وہ 30 جون تک اس فیچر کو بند رکھے۔ کہا جا رہا ہے کہ جانچ مکمل ہونے تک اس سہولت پر نگرانی رکھی جائے گی۔ واضح رہے کہ نیٹ ری-ایگزام 21 جون کو منعقد کیا گیا تھا۔ حالانکہ اب تک امتحان سے منسلک کسی نئی دھوکہ دہی یا پیپر لیک کی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔ اسی کے بعد ٹیلیگرام پر عائد عارضی پابندی کی مدت ختم ہونے دی گئی اور اس میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔
عارضی پابندی کے دوران ٹیلیگرام کے سی ای او پاویل ڈورو نے ہندوستانی حکومت کے فیصلے کی عوامی طور پر مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ صارفین کی جانب سے مبینہ طور پر لیک مواد شیئر کیے جانے کی وجہ سے پورے پلیٹ فارم پر پابندی عائد کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ٹیلیگرام کے حریف پلیٹ فارمز کی جانب سے کمپنی کے خلاف لابنگ کی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جوابدہی اور کنٹینٹ ماڈریشن کو لے کر حکومتوں اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے میں کہا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں ٹیلیگرام سمیت دیگر میسجنگ پلیٹ فارمز پر فرضی معلومات، امتحان سے منسلک دھوکہ دہی اور غیر قانونی مواد کو روکنے کے لیے مزید سخت قوانین دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔