بنگلورو، 14 /اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک قانون ساز کونسل کے چیئرمین بسوراج ہوراٹی کی صدارت میں آج ودھان سودھا میں اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں سے منتخب اراکین کونسل کی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست کے وزیر برائے اسکولی تعلیم و خواندگی مدھو بنگارپا نے شرکت کی۔ اجلاس میں اساتذہ کے مسائل، بھرتیوں، ترقیوں اور تعلیمی پالیسی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور بروقت حل کیلئے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
میٹنگ میں اراکین نے گریجویٹ ڈگری رکھنے والے پی ایس ٹی اساتذہ کو جی پی ٹی کے عہدوں پر ترقی دینے کا مطالبہ پیش کیا، جس پر وزیر تعلیم نے بتایا کہ کارروائی جاری ہے اور قانونی و ڈی پی اے آر محکموں کی رائے لی جا رہی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کی منظوری بھی حاصل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد وزیراعلیٰ سے حتمی بات چیت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
ہائی اسکول اسسٹنٹ ٹیچرز کو لیکچرر کے عہدے پر ترقی دینے کیلئے لازمی امتحان کے ضابطے پر چیئرمین بسوراج ہوراٹی نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور وزیر تعلیم کو اس پر نظرثانی کی ہدایت دی۔ اسی طرح، 15، 20 اور 25 سال کی سروس مکمل کرنے والے ترقی یافتہ اساتذہ کے تنخواہی اسکیل میں فرق ختم کرنے کیلئے بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات پر فوری عمل کرنے کو کہا گیا۔
غیر امدادی تعلیمی اداروں میں 2020 تک کے خالی عہدوں کی بھرتی، ریٹائرمنٹ کے بعد پیدا ہونے والی اسامیوں کے پُر کرنے کے عمل، اور محکمہ خزانہ کی منظوری کی ضرورت جیسے امور بھی زیر بحث آئے۔ وزیر تعلیم نے اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے تنخواہ امداد ایکٹ میں ترمیم پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ غیر امدادی ڈگری کالجوں کے کم کام والے لیکچررز کو پی یو کالجوں میں تعینات کرنے کیلئے کمیٹی کی رپورٹ ملتے ہی کارروائی کی جائے گی۔ غیر امدادی ہائی اسکولوں میں ایس ایس ایل سی نتائج کی بنیاد پر اساتذہ کے خلاف کارروائی کے فیصلے کو واپس لینے کے مطالبے پر وزیر تعلیم نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے اپنے حکم کی منسوخی کا وعدہ کیا۔
بی کام اور بی ایڈ اہلیت رکھنے والوں کو پرائمری اور ہائی اسکول اساتذہ کی بھرتی میں شامل کرنے کے معاملے پر محکمہ تعلیم کی پرنسپل سکریٹری رشمی مہیش نے واضح کیا کہ موجودہ قانون میں اس کی گنجائش نہیں ہے اور اس کیلئے ترمیم ضروری ہوگی۔
وزیر تعلیم نے کھنڈر نما عمارتوں میں چلنے والے غیر امدادی اسکولوں کو عارضی طور پر دو سال کیلئے منتقل کرنے اور 30 سالہ کرایہ یا لیز مدت مکمل کرنے والے اداروں کو ایک مرتبہ منتقلی کی اجازت دینے سے بھی اصولی اتفاق کرتے ہوئے جلد فیصلہ لینے کی یقین دہانی کرائی۔
اس اجلاس میں محکمہ تعلیم کی پرنسپل سکریٹری، کمشنر، پی یو تعلیم کے ڈائریکٹر اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔