منگلورو، 16 / جون (ایس او نیوز) مینگلور کے قریبی علاقہ سولیا کے سوانالو گاوں میں بائک کے ساتھ ندی پار کرتے وقت بہہ جانے والے دو بائک سوار بڑے ہی ڈرامائی انداز میں جان بچانے میں کامیاب ہوگئے ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ستیش اور سنجیوا پجاری نے بائک پر سوار ہو کر کام پر جاتے وقت کدرے مکھ نیشنل پارک علاقے میں کوڈوجالو اور ہیتیلا پیلو کے بیچ واقع ندی کو پار کرنے کی کوشش کی ۔ برساتی پانی کی وجہ سے ندی میں طغیانی جیسی کیفیت تھی جس کی وجہ سے دونوں بائک سمیت ندی میں بہہ گئے ۔
خوش قسمتی سے ان کی موٹر بائک آگے جا کر ندی کے کنارے ایک جگہ پر پھنس گئی اور یہ دونوں نوجوان موت کے منھ سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ برساتی موسم میں یہاں پر ندی میں طغیانی آتی ہے اور پانی کا بہاو خطرناک ہو جاتا ہے مگر چونکہ یہ علاقہ کدرے مکھ نیشنل پارک کی حدود میں آتا ہے اس لئے جنگلاتی زندگی کے تحفظ سے متعلقہ قوانین کی رو سے یہاں پر مستقل پُل کی تعمیر نہیں ہو سکتی ہے اور محکمہ جنگلات کی اس اجازت نہیں دیتا ۔ اس دور دراز علاقے میں 9 خاندانوں پر مشتمل تقریباً 60 افراد بستے ہیں ۔ یہ آبادی گزشتہ 150سال سے بجلی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر جیسی زندگی کی بنیادوں سہولتوں سے محروم ہے ۔ ان کے لئے ندی سے گزر کر ہی شہر کی طرف آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اس لئے برسات کے موسم میں انہیں اپنی جان پر کھیلتے ہوئے اس راستے سے گزرنا پڑتا ہے ۔
مقامی لوگوں نے محکمہ جنگلات پر زور دیا ہے کہ یا تو یہاں ایک مستقل پُل تعمیر کیا جائے یا پھر ایک عارضی پُل تعمیر کرنے کے لئے انہیں اجازت دی جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ یہاں پر عوام کی طرف سے عارضی پُل تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر محکمہ جنگلات نے اس پر روک لگاتے ہوئے ایسی کوشش کرنے والوں کے خلاف کیس درج کیا تھا ۔