بھٹکل، 7 جولائی (ایس او نیوز): بھٹکل میں آوارہ کتوں کی دہشت جاری ہے، جہاں صرف 70 گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں 15 سے زائد افراد کتوں کے حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بچوں کی تعداد سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ مسلسل واقعات کے باوجود انتظامیہ کی خاموشی پر عوام شدید ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔
حالیہ واقعہ میں بھٹکل کی مدینہ کالونی میں چار سالہ اِیھاب احمد ابن امتیاز حسین دامودی ، کتے کے حملے میں زخمی ہو گیا۔ بچہ اتوار کی دوپہر قرآن ٹیوشن سے واپس آ رہا تھا کہ گھر کے گیٹ پر دو آوارہ کتوں نے اچانک اُس پر حملہ کردیا۔ ایک کتے نے لڑکے کے پیر میں دانت گاڑ دیے۔ لڑکے نے بہادری دکھاتے ہوئے کتے کو لات مار کر بھگانے کی کوشش کی، اسی دوران اہل خانہ بھی دوڑ کر پہنچے اور فوری طور پر بچے کو بچا لیا گیا۔ بعد میں اُسے سرکاری اسپتال لے جاکر ابتدائی طبی امداد دی گئی۔
بھٹکل سرکاری اسپتال ذرائع کے مطابق پچھلے تین دنوں میں تعلقہ بھر سے کتوں کے حملے میں زخمی ہونے والے 15 سے زائد افراد نے علاج کرایا ہے، جن میں زیادہ تر کیسز بچوں کے ہیں۔ مدینہ کالونی کے علاوہ جالی، تلاند، بیلنی، سرپن کٹہ، بندر روڈ، ہاڈین، نوج، کیترے اور ہونّے گیدّے جیسے علاقوں میں بھی ایسے حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر عوامی بحث چھڑ گئی ہے کہ بھٹکل کے مدینہ کالونی، عمر اسٹریٹ، نوائط کالونی، جامعہ آباد روڈ، کارگیدے، مخدوم کالونی اور دیگر کئی محلوں میں آوارہ کتوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ کتے جھنڈ بنا کر گلیوں میں گھومتے ہیں اور خونی بھیڑیوں کی طرح غراتے ہوئے راہ گیروں پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو اسکول چھوڑنے یا لانے کے دوران سخت خوف کا سامنا رہتا ہے، اور بچوں کی حفاظت کے لیے ہر وقت فکر دامن گیر رہتی ہے۔
عوام نے تعلقہ انتظامیہ، میونسپالٹی اور سماجی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر آوارہ کتوں کے مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دیں، اور ان کتوں کو پکڑ کر انسانی بستیوں سے دور کسی مناسب مقام یا جنگلاتی علاقوں میں منتقل کرنے کا انتظام کریں، تاکہ مزید کسی شہری، بالخصوص بچوں کو نقصان نہ پہنچے۔