نئی دہلی 13/فروری (پی ٹی آئی/ایس او نیوز): پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ شدید ہنگامہ آرائی اور سیاسی کشیدگی کے درمیان جمعہ کو اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس کے دوران بھارت۔امریکہ عبوری تجارتی معاہدے اور سابق آرمی چیف کی یادداشتوں کے معاملے پر ایوان میں تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جبکہ آٹھ اپوزیشن ارکان کو بقیہ اجلاس کے لیے معطل بھی کیا گیا۔
جمعہ کی صبح لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان نے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ بھارت۔امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کے باعث کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ اسی طرح راجیہ سبھا کی کارروائی بھی سوالیہ گھنٹے کے بعد دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔
مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فی الحال اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے خلاف تحریک لانے کا منصوبہ موخر کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی رکن نشی کانت دوبے نے وزیر اعظم کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے کے معاملے پر کانگریس لیڈر کے خلاف باضابطہ تحریک پیش کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ معاملہ استحقاق کمیٹی، اخلاقیات کمیٹی یا براہ راست ایوان کے سامنے رکھا جائے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو کے ساتھ ہندی میں پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایف آئی آر درج ہو، مقدمہ قائم ہو یا استحقاق کی تحریک لائی جائے، میں کسانوں کے حق کے لیے لڑوں گا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ کوئی بھی ایسا تجارتی معاہدہ جو کسانوں کے روزگار کو متاثر کرے یا ملک کی غذائی سلامتی کو کمزور بنائے، وہ کسان مخالف ہے، اور وہ حکومت کو کسانوں کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرنے دیں گے۔
جمعہ کو راہل گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں ملک بھر کی کسان تنظیموں کے قائدین سے ملاقات کی، جس میں بھارت۔امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کی مخالفت کے لیے ملک گیر تحریک چلانے اور کسانوں و زرعی مزدوروں کے روزگار کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بجٹ اجلاس کا آغاز 28 جنوری کو ہوا تھا۔ اجلاس کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب نہیں دیا، کیونکہ اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر انہیں لوک سبھا میں شرکت نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ اپوزیشن نے اوم برلا کو اسپیکر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے قرارداد پیش کرنے کا نوٹس بھی دیا ہے۔ امکان ہے کہ یہ قرارداد 9 مارچ سے شروع ہونے والے اجلاس کے دوسرے مرحلے میں ایوان کے سامنے پیش کی جائے گی۔
اب ایوان 9 مارچ کو دوبارہ منعقد ہوگا اور 2 اپریل تک جاری رہے گا، جس کے دوران فنانس بل کی منظوری متوقع ہے۔ تین ہفتوں کے وقفے کے دوران پارلیمانی قائم کمیٹیاں مرکزی وزارتوں کو مختص بجٹ کا جائزہ لیں گی۔
ذرائع کے مطابق راجیہ سبھا میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ اجلاس کے دوبارہ آغاز پر وزارت خارجہ، دیہی ترقی اور تجارت کی کارکردگی پر تفصیلی بحث کرائی جائے۔